طالبان کے ساتھ معاہدہ مکہ مکرمہ میں ہوناچاہیے‘افغان سفیر

82

ریاض (صباح نیوز) سعودی عرب میں افغانستان کے سفیر سید جلال کریم نے کہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان صلح کا حتمی معاہدہ مکہ معظمہ میں ہونا چاہیے، افغان حکومت اور طالبان میں براہ راست مذاکرات پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان قطر کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات سے افغان حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں، جب تک افغان حکومت اس بات چیت کی فریق نہیں بنتی مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا طے کرتا ہے کہ طالبان سے ملاقات کب اورکہاں کی جائے گی لیکن افغان حکومت کا موقف اس سلسلے میں واضح ہے ہماری خواہش ہے کہ حکومت اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات ہوں۔ ریاض میں افغان سفیر نے کہا کہ افغان حکومت مصالحتی عمل میں سعودی عرب کا کلیدی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ہدایت پر گفتگو کو حتمی شکل دینے اور مکہ میں حکومت اور طالبان میں مفاہمت کے آخری معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے۔ دوسری طرف سفیر نے ایران کے ساتھ طالبان کے اتحاد کی اہمیت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان علاقائی تنازعات کا میدان نہیں بننا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر افغانستان کو بڑی خانہ جنگی میں گھسیٹنے سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی افغانستان کو دوسرے ممالک کے مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانے کی اجازت دیں گے۔