ہزاروںافرادکا ایل او سی عبور کرنے کیلیے مارچ

328

مظفر آباد/ چکوٹھی (صباح نیوز)جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف)کی کال پر آزاد کشمیر بھر سے آزادی مارچ کے قافلے ہفتے کو مظفرآباد پہنچ گئے ہیں ، مارچ کا آغاز جمعے کو ضلع بھمبر سے ہوا تھا، قافلے کوٹلی، راولاکوٹ اور دھیرکوٹ سے ہوتے ہوئے رات گئے مظفرآباد پہنچے، آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ چکوٹھی سے کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے مارچ شروع کردیا گیا ہے،آزاد کشمیر سے آنے والے شرکااپر اڈاہ میں جمع ہوئے جس کے بعد پیدل سیز فائر لائن کی جانب مارچ شروع کردیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنان مقبوضہ کشمیر کے عام لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور وہاں جاری لاک ڈان کے خلاف ایل او سی کی جانب پیدل مارچ کر رہے ہیں۔ مارچ کے شرکا کوکنٹرول لائن کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ چناری اور کنٹرول لائن چکوٹھی کے درمیان جسکول کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری نے شاہراہ سری نگر پر کنٹینر،مٹی کے تودے ،بجلی کے پول اور خار دار تاریں لگا کر مکمل ناکہ بندی کر لی۔ کمشنر مظفرآبادچودھری امتیاز احمد نوری،ڈی ،آئی ،جی سردار الیاس خان ،ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا راجا عمران شاہین ،ایس ،پی ارشد نقوی،ڈی ،ایس پیز،اشتیاق گیلانی ،رضاالحسن گیلانی ،ایس ،ایچ ،اوز فیض الرحمن عباسی،راجا یاسر خان ،جاوید گوہر سمیت دیگر پولیس اور انتظامی افسران کی قیادت میں تقریبا 600 سے زاید پولیس کے جوان چناری میں موجود ہیں ۔ کمشنر مظفرآباد نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے، جس سے شہریوں کو شدید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ کمشنر مظفرآباد نے کہا کہ کنٹرول لائن کے نزدیک عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے، جلوس کے شرکا سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔ پولیس نے عام ٹریفک کے لیے بھی شاہراہ سرینگر کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے،سڑک کی بندش کے باعث لوگوں کا پیدل چلنا مشکل ہو گیا ہے ۔خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مارچ کو چناری پہنچے کے بعد ایل او سی چکوٹھی کی طرف بڑھنے کی صورت میں انہیں جسکول کے مقام پر روکا جائے گا ،اس صورتحال کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان بڑے تصادم کاخطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ضلعی ہیڈ کوارٹر جہلم ویلی،چناری اور چکوٹھی میں شرکا مارچ کے استقبال کے لیے مختلف مقامات پر مقامی لوگوں کی جانب سے استقبالیہ کیمپ بھی لگائے گئے ہیں ہفتے کے روز مارچ کے باعث تحصیل ہٹیاں بالا،اور تحصیل چکار کے تعلیمی ادارے بند رہے ۔ہر شخص کی نگاہیں لبریشن فرنٹ کے مارچ کی جانب لگی ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ 1992ء میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان مرحوم نے بھی لائن آف کنٹرول توڑنے کی کال دی تھی اس دوران بھی چناری اور چکوٹھی کے درمیان جسکول کے ہی مقام پر پولیس نے مظاہرین کو روکا تھا جس میں 11 افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور درجنوں کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔