قوم بھارت سے مقابلے کیلئے تیار ہے لیکن خود کو ٹیپو سلطان کہنے والے وزیراعظم باہر نہیں نکل رہے،سراج الحق

243

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ پورے ملک کے عوام کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکلے ہیں مگر خودکو ٹیپو سلطان کہنے والے وزیراعظم اسلام آباد کے ایئر کنڈیشنر ہال سے نہیں نکل رہے۔

لاہور میں ہونے والے آزادی کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پورے ملک کے عوام کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکلے ہیں مگر خودکو ٹیپو سلطان کہنے والے وزیراعظم اسلام آباد کے ایئر کنڈیشنر ہال میں بیٹھے ر ہے۔ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر انہیں ڈھونڈ تے ڈھونڈتے اسلام آباد پہنچ گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قوم کا خیال تھاکہ اس تقریر کے بعد وزیراعظم قومی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر لائحہ عمل بنائیں گے اور کشمیرکی آزادی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائیں گے ۔ آج وزیراعظم نے ایک اور فتویٰ دیا ہے کہ اگر کوئی ایل او سی کی طرف بڑھا تو یہ غداری ہوگی اور وہ بھارت کو حملہ کی دعوت دے گا ۔ دشمن سے بچنے کے لیے دیواریں بنانے والے دشمن سے بچ نہیں سکتے ۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ مودی کا ایجنڈا پاکستان کے خلاف جارحیت اور اکھنڈ بھارت ہے۔ یہ مودی گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اور بابری مسجد کو جلانے کا مجرم ہے،مودی کی کامیابی سے مسئلہ کشمیر حل ہونے کی خوشخبریاں سنانے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتاہے۔ یہ کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل جہاد نہیں ، حالانکہ جہاد سے ہی کشمیر کا 28 ہزار مربع کلو میٹر حصہ آزاد ہوا تھا کل کے اور آج کے حکمران ضمیر کا بوجھ ہیں ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیری72سالوں سے پاکستان کی بقا اور سا لمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنا آج آپ کے کل پر قربان کردیاہے مگر آپ کی غیرت وحمیت ابھی تک سو رہی ہے ۔ کشمیری63 دنوں سے کرفیو میں گھرے ہوئے ہیں وہ اپنے مردوں کو گھروں میں دفن کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ٹرمپ اور مودی دونوں عالمی بدمعاش اور دھوکہ باز ہیں،قوم حکمرانوں کی طرف سے کسی عملی اقدام کا انتظار کر رہی ہے لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت قومی وحدت کی ضرورت ہے ،وزیراعظم نے قومی وحدت کو پارہ پارہ کردیاہے اور حکومت تنہا کھڑی ہے ۔

حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدام نہ اٹھایا تو قوم کا ہاتھ اور حکمرانوں کا گریبان ہوگا ۔ نااہل حکومت نے معیشت اور سیاست تباہ کردی ہے، عدالتوں، ہسپتالوں ،تعلیمی اداروں کا نظام تباہ ہوچکاہے ، کسانوں اورمزدوروں کے منہ سے آج کھانے کا لقمہ چھین لیا ہے اس حکومت سے کوئی توقع رکھنا عبث ہے ۔