عراق میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، ہلاکتوں کی تعداد 105 ہوگئی

166

عراق میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ہے ، 6 روز کے دوران پر تشدد مظاہروں کے  نتیجے میں اب تک 105 افراد  ہلاک ہوچکے ہیں .

یکم اکتوبر سے عراقی دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہرین  کی جانب سے حکومتی پالیسیوں ، بدعنوانی اور معاشی بدحالی کے خلاف  شروع کیا گیا احتجاج اب شدت اختیار کر گیا ہے. مظاہرین کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے .عراقی دارالحکومت بغداد کے مضافاتی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان مسلسل جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے ،مظاہرین کی جانب سے تحریر اسکوئر جانے کی کوشش کے دوران  پولیس نےاحتجاجی مظاہرین کو بزور طاقت روکنے کے لئے واٹر کینن ،آنسو گیس  کے شیل، ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے.

عراق میں مظاہروں کے بعد مختلف شہروں میں فوج بھی تعینات کی گئی ہے جبکہ ناصریہ شہر اب تک فوج کے کنٹرول میں ہے، حکومت کی جانب سے احتجاج پر قابو پانے کیلئے مختلف شہروں میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا جو بےسود ثابت ہوا ۔

یکم اکتوبر سےشروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 105 افرادجان کی بازی ہارچکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد زخمی ہوئےہیں .

عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی کی کابینہ نے حکومت مخالف احتجاج کے بعد ایک فرمان جاری کیا ہے جس میں زمین کی تقسیم ، فوجی اندراج اور مستحق خاندانوں کے لئے فلاحی وظیفہ کا اعلان کیا ہے  تاہم اس کے باوجود بھی احتجاج میں کمی نہ آسکی .مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت استعفی ٰ دے.