سندھ ہائیکورٹ ،خورشید شاہ کے فرنٹ مینوں کےضمانت میں توسیع ،نیب سے رپورٹ طلب

78

کراچی (نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کے مبینہ فرنٹ مینوں کی ضمانت میں 8 اکتوبر تک توسیع کرتے ہوئے نیب سے انکوائری سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے مبینہ فرنٹ مینوں کی درخواست ضمانت سے متعلق سماعت ہوئی۔ پراسیکیوٹر نیب نے بتایاکہ خان برادر اور عمر جان کمپنی کے مالکان کو کال اپ نوٹس جاری کیے ہیں۔ ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ دونوں ملزمان نیب کے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئے لیکن ان سے غیر متعلقہ سوالات کیے گئے‘ نیب نے ان سے صرف 2 سوال کیے۔ دونوں سوالات مبینہ فرنٹ مین ہونے اور تعمیر کی گئی سڑکوں کے معیار کے متعلق تھے‘ اگر درخواست گزار فرنٹ مین ہیں تو کام کے معیار کا سوال غیر متعلق ہے‘ اگر کام معیار کے مطابق ہے تو فرنٹ مین ہونے کا الزام غلط ہے‘ این ایچ اے سمیت تمام سڑکوں کی تعمیر معیار کے مطابق کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے نیب سے استفسار کیا ان کمپنیوں کے کام کا معیار کون چیک کر رہا ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے موقف دیا کہ ایک سینئر انجینئر کی سربراہی میں ٹیم کام کر رہی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کام کا معائنہ کرنے والے بھی نیب زدہ ہی ہوںگے۔ عدالت نے نیب کو ہدایت کی معیار چیک کرنے والوں کے عہدے، ڈگریاں اور تجربے سے متعلق تمام تفصیلات آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں۔ دریں اثنا جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیصل پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے روبرو پیپلز پارٹی کے رہنمائوں فریال تالپور، منظور وسان، ناصر حسین، سہیل انور سیال اور دیگر کے خلاف اقامہ رکھنے سے متعلق جیالے رہنماوں کو نااہل قرار دینے کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وکلا کی درخواست پر سماعت 18 اکتوبر کے لیے ملتوی کردی۔
خورشید شاہ