سی پیک پاکستان کی ترقی کیلیے سب کچھ فراہم نہیں کرسکتا ،چینی سفیر

211

کراچی(نمائندہ جسارت)پاکستان میں چینی سفیر ہی یاؤجنگ کا کہنا ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کی معاشی ترقی کیلیے سب کچھ فراہم نہیں کرسکتا۔کراچی میں کونسل آف فارن ریلیشنز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کیلیے چین نے معاشی وسائل فراہم کیے ہیں۔ سی پیک چین اور پاکستان کے تعلقات کے لیے گیم چینجر ہے۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ہمارے تعلقات ہر شعبے میں بہترین ہیں۔ سی پیک کے سارے منصوبے مکمل ہوں گے، 2013 سے 2018 تک بجلی اور بندرگاہ کے بڑے منصوبے انجام پائے ہیں۔موجودہ حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کا اپنا وژن ہے۔ عمران خان وژن کے تحت سی پیک میں نجی شعبے اور صنعتوں پر توجہ ہوگی، اب ہم زرعی شعبے پر توجہ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی معیشت کیلیے اہم ترین شہر ہے،ہم پاکستان کے کاروباری حضرات کے ساتھ مل کر منصوبے بنائیں گے۔اس موقع پر چینی سفیر نے حکومت چین کی جانب سے آئندہ سال پاکستانی طلبہ کو 20 ہزار اسکالرشپس دینے کا بھی اعلان کیا۔چینی سفیر نے کہا کہ مغربی میڈیا سی پیک سے متعلق غلط تاثرات ابھارتا رہتا ہے۔چین کے پاکستان میں کوئی فوجی یا اسٹریٹجک عزائم نہیں، مغربی میڈیا تاثر دیتا ہے چین پاکستان کو کالونی بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف گوادر پورٹ تک کا
منصوبہ نہیں۔ سی پیک گوادر سے قندھار، سینٹرل ایشیاء اور روس تک پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر ابھرتا ہوا پورٹ ہے یہ پاکستان حکومت اور قوم کا خواب تھا۔ہم پاکستان میں تمام شعبوں میں بھرپور تعاون کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین گوادرپورٹ چلانے کیلیے سالانہ 40ملین ڈالرخرچ کررہا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ ہم پاکستان کی فری زون پالیسی کا انتظار کررہے ہیں۔فری زون پالیسی سے گواد ر میں 19منصوبے شروع ہوں گے۔فری زون پالیسی کے تحت فیکٹریاں بنائیں گے۔گوادر میں سی فوڈ، زراعت اور دیگر صنعتیں قائم ہوں گی جس سے ملازمت کے مواقع پیداہوں گے۔
چینی سفیر