طالبہ کے قتل سمیت مسلح ڈکیتی کی وارداتیں سوالیہ نشان ہیں ٗ حافظ نعیم

229

کراچی (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے گلشن اقبال موچی موڑ کے قریب مسلح ڈاکوؤں کی لوٹ مار اور ڈکیتی کی واردات کے دوران نجی یونیورسٹی کی طالبہ مصباح اطہرکے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات ،طالبہ کاقتل اور شہر میں بڑھتی ہوئی مسلح ڈکیتی کی وارداتیں حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہیں ، اس سے قبل بھی میڈیکل کی ایک طالبہ گولی کا شکار ہوچکی ہے ۔گزشتہ دنوں یونیورسٹی کے قریب این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر کی اہلیہ بھی ڈکیتی کی واردات میں جاں بحق ہوگئی تھیں ، چند ماہ قبل نارتھ ناظم آباد میں شارع نور جہاں پر ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ میں رکشے میں سوار طالبہ نمرا جاں بحق ہوئی تھی ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پولیس اور متعلقہ ادارے حرکت میں آتے اور اس قسم کی وارداتوں سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کرتے لیکن ان کی نااہلی و ناقص کارکردگی کی وجہ سے آج پھر ایک طالبہ اپنی جان گنوا بیٹھی ۔اس سے قبل بھی ایسی وارداتیں ہوچکی ہیں لیکن مجرموں کو گرفتار نہیں کیا گیا،حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی ذمے داری پوری کریں ۔انہوں نے کہاکہ اسٹریٹ کرائمز ،ٹارگٹ کلنگ اورڈکیتی میں ملوث افراد کو ضمانت پررہا کردیا جاتا ہے جس کے بعد یہی افراد دوبارہ ڈکیتیاں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ گلشن اقبال میں یونیورسٹی طالبہ کی ہلاکت کے بعد متعلقہ ایس ایچ او کی گرفت کرنے کے بجائے اسے دوسرے تھانے میں تعینات کردیا گیا ۔ ماضی میں کسی بھی تھانے کی حدود میں ہونے والے جرم کے بعد تھانے دا ر کو معطل کیا جاتا تھا جبکہ مذکورہ تھانے کی حدود میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام میں ناکامی کے بعد مذکورہ تھانے دار کو دوسرے تھانے میں بھیج دیا گیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمے داری ہے کہ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور مسلح ڈکیتی کی وارداتوں کی روک تھام کی جائے اور ان میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مصباح اطہر کے قتل سمیت دیگر وارداتو ں میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن