حیدرآباد ،لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج ،ہائی وے پر دھرنا

89

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمشنر حیدرآباد کے درمیان دفترخالی کرانے کا تنازع شدت اختیار کرگیا، سپرہائی وے پر چار گھنٹے دھرنا، ٹریفک معطل، گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، اے سی قاسم آباد کی یقین دہانی پر احتجاج ملتوی۔ کمشنر حیدر آباد محمد عباس بلو چ اور سندھ لیڈی ہیلتھ پروگرام کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ذوالفقار دھاریجو کی جانب سے محکمہ صحت کی جانب سے ملنے والے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے صوبائی آفس کو خالی کرانے کا تنازع شدید کرگیا۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی چیئرپرسن بشریٰ آرائیں، راشدہ نظامانی، عظمیٰ جوکھیو، لال خاتون، صائمہ پالاری اور ڈاکٹر آفتاب ودیگر کی قیادت میں حیدرآباد بائی پاس پر دھرنا دیا جو کہ چار گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ہزاروں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر مرکزی چیئرپرسن بشریٰ آرائیں نے کہا کہ کمشنر حیدرآباد عباس بلوچ اور سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ذوالفقار دھاریجو نے ایک سازش کے تحت محکمہ صحت کے لوگوں کو ملاکر صوبائی آفس خالی کرانے کی سازش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سے قبل ہم نے پریس کانفرنس کرکے اور دیگر ذرائع سے تمام متعلقہ حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا لیکن کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے جس کے بعد ہم نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہ احتجاج دفتر خالی کرانے کے فیصلے کی واپسی تک جاری رہے گا۔ تاہم اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر قاسم آباد فدا حسین شورو، بزنس فورم کے صدر رحمت ساند، ڈی ایس پی شیر سرکی، ایس ایچ او قاسم آباد صغیر سانگی نے پہنچ کر لیڈی ہیلتھ ورکرز سے بات چیت کی اور انہیں آفس بحال کرانے اور پی ڈی ڈاکٹر ذوالفقار کے تبادلے کی یقین دہانی سمیت دیگر مسائل کے حل کی یقین دہائی کرائی جس پر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاج ختم کردیا۔