مودی نے اگلے مرحلے کی تیاری کرلی ،کشمیر کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ،بھارت میں ہائی الرٹ

87

اسلام آباد ( میاں منیر احمد) حکومت کے خلاف جے یو آئی کے دھرنے کی تیاریوں‘ وفاقی کابینہ میں تبدیلی اور ملک میں سیاسی ہلچل میں ایک بہت بڑی خبر چھپی ہوئی ہے اور یہ خبر اس خطے کی سب سے بڑی خبر بن سکتی ہے ۔جو لوگ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں انہیں اس خبر کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ بھارتی عدالت عظمیٰ میں مودی سرکار کے اقدامات کے خلاف زیر سماعت مقدمے میں وکیل نے عدالت سے مہلت مانگی اور اس دوران بہت بڑی خبر بھی دے دی کہ جس میں مقبوضہ کشمیر میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت کا عندیہ ملتا ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل کی عدالت میں کی گئی گفتگو کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہورہا ہے کہ 4ہفتوں کے بعد مودی سرکار کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ کرنے جارہی ہے، یہ عمل 31اکتوبر کو متوقع ہے، اس تقسیم میں وادی‘ جموں اور لداخ کے بارے میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین میں جو ترمیم اور تبدیلی کی ہے اس پر اب اگلے مرحلے میں مزید پیش رفت ہوتی ہوئی نظر آنے لگی ہے اس پس منظر میںمودی سرکار نے بھارت بھر کے ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنز میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سرینگر، امرتسر اور پٹھان کوٹ اونتی پورہ، جموں،پٹھان کوٹ اور دیگر ائربیسز پر اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں دہلی سرکار کے تقریبا 2ماہ قبل کیے گئے اقدامات کے بعد اب اس متنازع خطے کے ایک حصے لداخ میں بھی نئی کشیدگی اور سماجی تنائو پیدا ہو گیا ہے، بھارتی اقدام لداخ کے بودھ باشندوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے کہ ان کے اکثریتی علاقے لہہ کی منفرد ثقافتی اور سماجی حیثیت بھی اس وقت خطرے میں پڑ جائے گی جس کے بعد ہندو لہہ میں املاک خریدنے اور وہاں رہائش اختیار کرنے کے حقدار ہو جائیں گے ۔لداخ میں 5اگست کو نئی دہلی میں مودی حکومت کے جموں کشمیر کی بھارتی آئین کے مطابق خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے لے کر اب تک کافی زیادہ تنائو پیدا ہو چکا ہے۔ مودی حکومت کے متنازع اور غیر قانونی فیصلوں پر عمل درآمد کے بعد لداخ کو مزید 2حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ حصے جموں کشمیر اور لداخ کہلائیں گے اور دونوں ہی بھارت کے یونین علاقے ہوں گے لیکن کشمیر ہی کے ایک حصے سے متعلق بھارت کا چین کے ساتھ تنازع بھی پایا جاتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے شمال مشرق میں واقع لداخ کا علاقہ مزید 2حصوں میں منقسم ہے۔ ان میں سے ایک لہہ کہلاتا ہے اور دوسرا کارگل۔ ضلع لہہ کی آبادی میں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے جبکہ کارگل کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے اس علاقے میں نئی کشیدگی کا سبب نئی دہلی کے 5اگست کے فیصلے کے ساتھ کیا جانے والا وہ اعلان بھی ہے جس پر مودی حکومت کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی غیرمنصفانہ اور متنازع پروگرام پر 31 اکتوبر کو عمل درآمد ہو جائے گا جس کے بعد لداخ کا یہ علاقہ جموں کشمیر سے کاٹ کر عملاً علیحدہ کر دیا جائے گا اور ایک یونین علاقے کے طور پر براہ راست نئی دہلی کے انتظام میں آ جائے گا۔لداخ کے اس علاقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سیاچن گلیشیئر کا مشہور اور اسٹرٹیجک حوالے سے انتہائی اہم علاقہ بھی اس خطے میں ہے، جسے عسکری ماہرین ‘دنیا کا بلند ترین میدان جنگ بھی کہتے ہیں۔اس گلیشیئر اور اس سے ملحقہ علاقے میں بھارت اور اس کے حریف ہمسایہ ملک پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔دنیا کا یہ بلند ترین میدان جنگ سطح سمندر سے 6,700 میٹر یا 22,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اقوام متحدہ میں وزیر اعظم کی تقریر کے بعد پاکستان بھی اب پارلیمانی وفود بیرون ملک بھجوارہا ہے پہلا پاکستانی وفد 24۔ اکتوبر کو ڈنمارک روانہ ہو گا، وفد کی قیادت وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلویز میاں فرخ حبیب کریں گے ڈنمارک کی سوشلسٹ پارٹی انٹر کلچر پروگریسو کے چیئرمین خواجہ محمد سعید نے پاکستانی وفد کو کشمیر ایشو پر دعوت دی ہے لیکن بھارتی مرکزی حکومت کے تیور اچھے نہیں دکھائی دے رہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 اور 35اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 60ویں روز بھی کرفیو جاری ہے۔ بھارتی عدالت عظمیٰ نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ختم کرنے سے متعلق درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پی ڈی پی کے رہنما ڈاکٹر سمیر کول نے بھارتی عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انٹرنٹ کی بندش سے مقبوضہ کشمیر کے ہسپتالوں کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے، حکومت کو حکم دیا جائے کہ کم از کم جموں و کشمیر کے اسپتالوں میں انٹرنیٹ کمیونکیشن سروس بحال کی جائے ۔عدالت نے سمیر کول کی ایک پٹیشن کو سماعت کے لیے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔بھارتی عدالت نے انہیں جموں و کشمیر ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کی ہدایت دی ۔بھارتی حکومت نے بھارتی فوج کے لیے وسیع اختیارات کا قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ ( افسپا) کوآسام ، منی پور ،ارونا چل پردیش ،میگھالیہ ، میزورم اور ناگالینڈ کے بعد اروناچل پردیش کے 3 اضلاع میں نافذ کر دیا ہے ،اس قانون کے تحت بھارتی فوج کو کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے اسے گولی مارنے کا اختیار ہے ۔ اس قانون کی موجودگی میں بھارتی فوج کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہو سکتی آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ ( افسپا) مقبوضہ کشمیر میں کئی سالوں سے نافذ ہے، آرمڈ فورسزا سپیشل پاور ایکٹ ( افسپا) اپریل میں افسپا قانون کو 3 ضلعوں سے عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تھا، تراپ،چانگ لانگ اور لونگ ڈنگ ضلعوں کے ساتھ کچھ تھانہ حلقوں میں اس کو 30 ستمبر تک نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کو اب 31 مارچ 2020ء تک بڑھا دیا۔
بھارت