دھرنے پر تحفظات ہیں، جمہوریت کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے، بلاول

171

اسلام آباد (صباح نیوز) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے حوالے سے اگر شک ہوا کہ مولانا کسی قوت کے اشارے پر کام کر رہے ہیں تو اپنی حمایت واپس لے لیں گے‘دھرنے پرتحفظات ہیں اس کے سوا ہر سطح پر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہوں گے‘ فضل الرحمن کی کتنی مدد کر سکتے ہیں‘ مشاورت کے لیے پیپلز پارٹی نے اجلاس بلایا ہے‘ اپوزیشن کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ دھاندلی زدہ حکومت گھر جائے‘ معیشت برباد ہو چکی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے پارلیمان کو غیر موثر بنا دیا‘ جھوٹوں اور منافقوں کی حکومت ہے‘ ہم پر بھی کارکنوں کا دبائو ہے‘ اگر پارلیمان فعال نہیں کریں گے تو ہم بھی سڑکوں پر ہوں گے‘معاشی چیلنجز کا مقابلہ پیپلزپارٹی ہی کرسکتی ہے، اپوزیشن کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں سندھ حکومت کو خطرے سے متعلق سوال پر بلاول نے کہا کہ یہ سندھ حکومت پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ آصف زرداری نے اپنے اصولوں اور نظریے پر سمجھوتا نہیں کیا‘ ایک سال بعد بھی صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہوسکا‘ ثبوت ہے نہ کوئی کیس‘ صرف ڈیڑھ ارب کا الزام ہے‘ نیب کہانیاں سنا رہا ہے‘ابھی تک ریفرنس سے کچھ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو سب سے بڑی تکلیف یہ ہے کہ پی پی پی وہ واحد جماعت ہے جو ان کے سامنے کھڑی ہے اور جو ان کو اپنے صوبے اور اپنے عوام کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دے رہی اور نہ ہی دی گی۔ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ایک سال میں تبدیلی سرکار اور عمران خان کی حکومت عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہے جو شخص انصاف اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتا تھا اس نے اپنے ہر سیاسی مخالف اور یہاں تک کہ ان کے گھر کی خواتین کو بھی بغیر کیس جیل میں ڈال دیا ہے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ عوام کو ٹیکسز کے طوفان میں دھکیل دیا گیا جبکہ ایک سال میں معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا‘ ہمارا کاروباری طبقہ اتنا پریشان ہو گیا کہ وہ گزشتہ روز ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف تک پہنچا تھا‘ آرمی چیف کے پاس تاجروں کے جانے سے بری مثال قائم ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ ہرادارہ اپنی حدود میں رہ کرکام کرے، اداروں پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔