سیلز ٹیکس کے قوانین میں تبدیلی سے مقامی صنعتیں بندہوجائینگی‘سی سی آئی

125

اسلام آباد ( نامہ نگار) اسلام آباد چیمبر آف اسمال کامرس اینڈ اسمال انڈسٹریز کے صدر چودھری سجاد سرور، سابق صدر رانا ایاز احمد نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کے قوانین میں تبدیلی سے درآمد شدہ خام مال ملک میں تیار ہونے والے خام مال سے سستا ہو گیا ہے جس نے مقامی صنعت کو مسائل سے دوچار کر دیا ہے جبکہ بھاری مقدار میں زرمبادلہ بھی ضائع ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحان ملک میںصنعتوں کی بندش،بینک ڈیفالٹ، غربت، بے روزگاری محاصل میں کمی اور زرمبادلہ کے زیاں کا سبب بن رہا ہے، اس لیے ان قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹنگ کے خاتمے کے بعد برآمدی صنعت مقامی منڈی سے خام مال خریدنے کے بجائے درآمدات کو ترجیح دے رہی ہے جس سے ملک میں کپاس، دھاگے اور خام کپڑے کی طلب کم ہو گئی ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خام مال تیار کرنے والے ہزاروں صنعتی یونٹ خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کو درآمد شدہ خام مال پر سیلز ٹیکس یا ڈیوٹی ادا نہیں کرنا پڑتی جبکہ مقامی خام مال بھاری ٹیکس عاید ہیں اور ان صنعتوں کو ریفنڈ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے۔