ٹنڈوالہٰیار، گرلز ہائی اسکو ل پیارو لوند پر بااثر افراد کا قبضہ

66

ٹنڈوالٰہیار (نمائندہ جسارت) محکمہ تعلیم کا کارنامہ، صوبے بھر میں تعلیم کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہاں ہی ضلع ٹنڈوالہٰیار کے محکمہ تعلیم جہاں بند اسکولوں کو کھولنے کے لیے اقدامات کرتی ہوئی نظر آتی ہے ان کی کارکردگی کی زندہ مثال تعلقہ جھڈو مری میں گرلز ہائی اسکو ل پیارو لوند پر بااثر افراد کے قبضے میں ہے، جہاں جانوروں کے لیے استعمال ہونے والا بھوسہ بھرا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت اور ضلعی حکومت کی جہدوجہد کے سبب تعلقہ جھڈو مری کے ہیڈ کوارٹر پیارو لوند میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی بلڈنگ کا کام سال 2006ء میں شروع کیا اور تین سال کے بعد سابقہ ضلعی ناظمہ ڈاکٹر راحیلہ گل مگسی نے سال 2009ء میں اس اسکول کا باقاعدہ افتتاح کیا، دس سال گزرنے کے باوجود مذکورہ اسکول چل نہ سکا، جبکہ اسکول میں داخل ہو نے والی طالبات کو پرائمری اسکول میں تعلیم دی جارہی ہے جبکہ گرلز ہائی اسکول پیارو لوند میں، 4 اساتذہ بھی مقرر ہیں، وہ بھی پرائمری اسکول میں طلبہ کو تعلیم دینے پر مجبور ہیں۔ علاقے کے بااثر افراد نے اسکول پر قبضہ کر رکھا ہے، جہاں طالبات کو تعلیم دینے کے بجائے بااثر افراد کے جانوروں کے استعمال میں ہونے والا بھوسہ بھرا ہوا ہے اور طالبات تعلیم سے محروم ہیں جبکہ تعلیم کے افسران اس اسکول کے بند ہونے سے لاعلم ہیں۔