نوابشاہ ، شوگر ملز مالکان کی ہٹ دھرمی ، گنے کے کاشتکاروں بد حالی کا شکار

191

نوابشاہ (رپورٹ : کاشف رضا) 2018-19ء میں زرعی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکے، گنے کی پیداواری صلاحیت کم ہوئی ہے، شوگر مل مالکان وقت پر ملیں نہیں چلاتے، گنا سوکھ جاتا ہے اور قیمت فروخت بھی نہیں مل پاتی۔ اس سلسلے میں سندھ بھر خصوصاً ضلع بے نظیر آباد میں گنے کے کاشت کار بد حالی کا شکار ہوگئے ہیں۔ 2019ء میں زرعی شعبے کی کارکردگی دبائو کا شکار رہی کیونکہ اس میں 3.8 فیصد کے مقابلے میں 0.85 فیصد شرح نمو رہی۔ گزشتہ سال کی نسبت نقد آور فصلوں کپاس، چاول، گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ 2018-19ء کے دوران کپاس کی پیداوار 9.861 ملین گانٹھ تھی جبکہ 2017-18ء میں کپاس گانٹھوں کی تعداد 11.946 ملین تھی لہٰذا اس میں 17.5 فیصد کی منفی نمو ریکارڈ کی گئی۔ سال 2018-19ء کے دوران چاولوں کی پیداوار 7202 ہزار ٹن رہی جبکہ گزشتہ سال 7450 ہزار ٹن پیداوار تھی۔ اس طرح 3.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سال 2018-19ء کے دوران گندم کی پیداوار 25.195 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جبکہ 2017-18ء میں اس کی پیداوار 25.076 ملین ٹن تھی۔ لہٰذا اس میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔ 2018-19ء کے دوران گنے کی پیداوار 67.174 ملین ٹن رہی، لہٰذا گزشتہ سال کی گنے کی پیداوار 83.333 ملین ٹن سے 19.4 فیصد کم ہوئی۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ جتنی محنت کرتے ہیں اتنا صلہ نہیں ملتا، مقروض ہیں کیا کریں؟ ملز مالکان بہت زیادتی کرتے ہیں، حکومت نے گنے کی فی من قیمت 182 روپے مقرر کی تھی، جس میں 30 روپے تو خرچہ نکل جاتا ہے اور شوگر مل مالکان ادائیگی بھی تاخیر سے کرتے ہیں۔ پچھلے سال ہمارا گنا اچھا تھا لیکن شوگر مل مالکان نے مل تاخیر سے چلا کر اسے سکھا دیا۔ اس سے لکڑی کی قیمت زیادہ ہے، لکڑی پر کوئی خرچہ نہیں۔ گنے پر اتنا خرچہ کرتے ہیں لیکن ملتا کچھ نہیں، اس پر فی ایکڑ پر دس ہزار کا بیج لگتا ہے، اس کے بعد کھاد، زرعی ادویات، ٹریکٹر اور مزدوری کے اخراجات الگ ہوتے ہیں اور آخر میں بچتا کچھ نہیں ہے۔ سندھ شوگر ملز ایکٹ کے تحت شوگر مل مالکان پر لازم ہے کہ وہ 30 نومبر تک اپنی ملیں چلائیں، لیکن کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ 2009ء سے اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ اسی سال 1950ء کے ایکٹ میں ترامیم کی گئی تھیں۔ اس قانون کے تحت ایک شوگر بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس کے چیئرمین صوبائی وزیر زراعت ہوں گے جبکہ اراکین میں دو رکن صوبائی اسمبلی، شوگر مل مالکان اور کاشتکاروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ بورڈ شوگر ملز کی کریشنگ کے دورانیے اور نرخ کا تعین کرے گا۔ اس قانون میں شوگر مل مالکان اور کاشت کار کے مالی لین دین کا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے۔ مل مالکان اور حکومتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے بورڈ کا اجلاس ہی منعقد نہیں کیا جاتا کیونکہ کئی شوگر ملز مالکان کا تعلق حکومت سے ہے اور مالکان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وقت پر ملیں نہ چلیں، کریشنگ کا دورانیہ کم ہو تاکہ کم نرخ پر گنا مل سکے۔ سندھ ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے سربراہ اور کاشت کار علی پلھ کا کہنا ہے کہ رواں سیزن میں بھی شوگر ملیں تاخیر سے چلائی گئیں، اس سے نہ صرف کاشت کار متاثر ہوئے بلکہ اس سے متعلقہ مزدور بھی بیروزگار رہے۔ ان کے بقول ان کے گنے کی کٹائی سے لے کر شوگر ملوں تک رسائی کے مراحل میں ڈھائی لاکھ مزدوروں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ گزشتہ سال گنے کے نرخ کے تعین اور عملدرآمد پر کاشت کاروں اور شوگر مل مالکان میں تنازع رہا۔ سندھ حکومت نے رواں سال گنے کا سرکاری نرخ 182 روپے فی من مقرر کیا تاہم کشیدہ صورت حال کی وجہ سے کئی کاشت کاروں نے محدود کاشت کی۔ عمر بگھیو نے اس سال 150 ایکڑ پر گنے کی فصل کاشت کی جبکہ وہ 300 ایکڑ پر فصل کاشت کرتے تھے۔ انہوں نے غیر یقینی کی صورت حال کے باعث آدھی فصل چارے میں بیچ دی۔ سندھ میں گزشتہ تین سال کے دوران فی من گنے کے سرکاری نرخ 182 روپے مقرر کیے جاتے ہیں۔ شوگر ملوں نے پہلے یہ نرخ دینے انکار کیا بعد میں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے سٹے آرڈر کا مطالبہ کیا لیکن عدالت نے مقررہ نرخ ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔