سکھر، 12 سالہ لڑکے کے قتل کے دو ملزمان کو عمر قید کی سزا

75

سکھر (نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے سکھر میں زیادتی کے بعد بچے کو بے دردی سے جلاکر مارڈالنے کے واقعہ کے دو ملزمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی، دو برس قبل پرانہ سکھر کے علاقے میں 12 سالہ فرخ انصاری کو اپنی ہی برادری کے چار لڑکوں نے اغوا کرنے کے بعد روہڑی کے پہاڑی علاقے اروڑ میں لے جاکر زیادتی اور بعد ازاں بہیمانہ تشدد بنانے کے بعد اسے قتل کرکے لاش کو نذر آتش کردیا تھا۔ پولیس نے شک کی بنا پر چار نوجوانوں واجد، کاشف، وقار اور شارخ انصاری کو حراست میں لے لیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت سکھر نے جرم ثابت ہونے پر دو ملزمان واجد اور کاشف کو سزائے موت جبکہ دو ملزمان وقار اور شاہ رخ کو بری کردیا تھا۔ سزائے موت پانے والے ملزمان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کیخلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت عالیہ نے دونوں مجرموں کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا۔ پنوعاقل کے علاقے غریب آباد کے علاقے میں دیوار گرنے سے ایک بچہ جاں بحق، 3 زخمی ہوگئے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق بچے محلے میں کھیل رہے تھے کہ اچانک دیوار ان پر گرگئی، پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کا نام تیمور چاچڑ جبکہ زخمیوں میں تنویر، وقار اور زاہد شامل ہیں۔ زخمی بچوں کو طبی امداد کے لیے تعلقہ اسپتال پنوعاقل منتقل کردیا گیا۔ بچوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان ہیں۔