عراق میں 46 ہلاکتوں کے باعث احتجاج میں شدت

35
عراق: کرفیو کے باوجود حکومت مخالف احتجاج کے دوران سڑکیں میدان جنگ بنی ہوئی ہیں
عراق: کرفیو کے باوجود حکومت مخالف احتجاج کے دوران سڑکیں میدان جنگ بنی ہوئی ہیں

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں معاشی بدحالی، بے ضابطگیوں اور ناقص سہولیات کے خلاف یکم اکتوبر سے جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 46 ہوگئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعہ کے روز بھی عراق کے مختلف شہروں میں بدعنوانی، بے روزگاری اور پانی و بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ہلاکتوں میں اضافے کے باعث ان مظاہروں میں پہلے سے زیادہ شدت دیکھنے میں آئی۔ دارلحکومت بغداد میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہرے پر سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ناصریہ شہر میں ہوئیں، جہاں 18 افراد حکومتی حامیوں اور سیکورٹی فورسز کا نشانہ بنے، جب کہ دارالحکومت بغداد میں 16، عمارہ اور بعقوبہ میں 4، 4 اور کچھ ہلاکتیں حلہ اور نجف میں ہوئیں۔ رپورٹس کے مطابق 4 روز سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سیکورٹی اہل کار بھی شامل ہیں۔ مظاہروں کے بعد مختلف شہروں میں فوج بھی تعینات ہے، جب کہ ناصریہ شہر کو فوج کے حوالے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا ٹی وی پر خطاب میں کہنا تھا کہ وہ عوام کی مایوسی کو سمجھتے ہیں، لیکن ان کے پاس ان مسائل کے حل کے لیے کوئی جادو نہیں ہے۔ اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گزشتہ سال ہی اقتدار سنبھالا ہے، اس سے قبل وہ نائب صدر، وزیرتیل اور وزیرخزانہ رہے ہیں۔ عراقی مذہبی رہنما آیت اللہ سیستانی نے سیکورٹی فورسز اور مظاہرین پر پُرتشدد کارروائیوں سے دور رہنے پر زور دیاہے۔ آیت اللہ سیستانی کا کہنا ہے کہ حکومت مظاہروں پر توجہ دے، اس سے قبل کہ دیرہوجائے۔