فضل الرحمن 27اکتوبر کی تاریخ بدل لیں‘ شاہ محمود۔ دھرنا بہرصورت ہوگا‘ جے یو آئی نے اپیل مسترد کردی

98

اسلام آبا د(خبر ایجنسیاں)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن سے آزادی مارچ کی تاریخ پرنظر ثانی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27اکتوبر وہ منحوس دن ہے ، وہ یوم ساہ کا دن ہے جس دن بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا تھا،جے یو آئی احتجاج کشمیر کے ساتھ نتھی نہ کریں،کسی اور تاریخ کا انتخاب کر لیںجبکہ جے یو آئی (ف) نے حکومتی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج اور دھرنا بہرصورت ہوگا، آزادی مارچ کا آغاز مظلوم کشمیریوں سے ملک بھر میں سڑکوں پر اظہار یکجہتی سے ہوگا، جو کام حکومت کو کرنا تھا وہ جے یو آئی کو کرنا پڑھ رہا ہے، آزادی مارچ کا ساتھ نہ دینے والی جماعتیں عوامی نفرت کا سامنا کریں گی، خیبر پختونخوا حکومت نے روکنے کی کوشش کی تو عوامی غیض و غضب کا نشانہ بن جائے گی۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ 27اکتوبر وہ منحوس دن ہے ، وہ یوم ساہ کا دن ہے جس دن بھارت کی افواج نے یلغار کی۔مارچ کیا اور سرینگر پر قبضہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کو ناجائز ذرائع سے اپنے ساتھ شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور دنیا بھر میں کشمیری اس دن کو کشمیر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن قابل احترام ہیں وہ خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، وہ 27تاریخ کو آزادی مارچ کرنا چاہتے ہیں، اب 27تاریخ کو وہ اپنا آزادی مارچ کرتے ہیں تو اس سے بھارت کے بیانیہ کو تقویت ملے گی کہ کشمیر کے مسئلہ پر قوم یکجا نہیں ہے، کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا، آپ 100 مخالفت کریں، مارچ کریں، 27تاریخ کو جب آپ کریں گے تو اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔کشمیر کے حوالے سے پارلیمان نے متفقہ قرارداد منظور کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمن سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس تاریخ پر نظر ثانی کریں ،میں بحیثیت جمہوریت پسند ہونے کے آپ کے پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہوں، لیکن 27اکتوبر وہ منحوس دن ہے، وہ یوم سیاہ کا دن ہے ۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے 27اکتوبر کو آزادی مارچ ملتوی کرنے کی حکومتی اپیل کو مسترد کردی ہے ۔مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پرواضح کیا گیا ہے کہ آزادی مارچ کا آغاز مظلوم کشمیریوں سے ملک بھر میں سڑکوں پر اظہاریکجہتی سے ہوگا ، جو کام حکومت کوکرنا تھا وہ جے یو آئی کو کرنا پڑ رہا ہے، بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی عوام کو غلام بنانے کی کوششوں کے حوالے سے سخت پیغام دیاجائے گا، آزادی مارچ کا ساتھ نہ دینے والی اپوزیشن جماعتیں عوامی نفرت کا سامنا کریں گی،خیبرپختونخوا حکومت نے روکنے کی غلطی کی تو عوامی غیض وغضب کا نشانہ بن جائے گی،سلیکٹڈ وزیراعلیٰ اپنی اوقات میںرہیں، کیونکہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں نے سب شعبوں کو بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 27اکتوبر کا دن مقرر کیا ہے۔ پوری دنیا میں کشمیری باہر آکر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور ہم ملک بھر میں سڑکوں پر ہوں گے اوربھارت کو سخت پیغام دیا جائے گا۔ اسلام آباد میںفقیدالمثال دھرناہوگا اپوزیشن کے وہ سیاست دان جو آزادی مارچ سے بھاگنے کی کوشش کریں گے ،ساتھ نہیں دیں گے توعوام ہوں گے اور ان کے گریباں ہوں گے، حکمرانوں کے ساتھ عوامی نفرت کا رخ ان کی طرف ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ شیخ رشید کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ اس کی باتوں کا نوٹس لیا جائے، زندگی میں کبھی تپتی زمین پر بھی قدم رکھنا پڑتا ہے۔ شیخ رشید پارٹیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں ، پروڈکشن آرڈرپر جب ماضی میں اسمبلی میں آئے تھے تو نواز شریف کے حق میں ان کا تاریخی خطاب ریکارڈ پر موجود ہے ۔