درجنوں ہلاکتوں کے بعد عراقی وزیراعظم نے گھٹنے ٹیک دیے، مذاکرات کیلیے آمادہ

77

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کی پیشکش کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاشی بدحالی، بے روزگاری اور حکومتی بدعنوانیوں کے خلاف مسلسل 3 روز سے جاری احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 44 ہوگئی ہے جب کہ 4ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں، احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے دارالحکومت بغداد سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ کیا گیا تاہم مظاہرین  تمام تر پابندیوں اور رکاوٹیں توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں۔

احتجاج میں شدت کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پرامن مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

پرائم منسٹر ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مظاہرین سے ملاقات کے لیے مسلسل رابطے کررہے ہیں تاکہ سیاسی بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکے اور معمولات زندگی کو بحال کیا جاسکے، بیا ن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مظاہرین کے جائز مطالبات پر غور کرنے کو بھی تیار ہیں۔