میرے شوہراس وقت ڈیتھ سیل میں ہیں،میں بہت مشکل وقت سے گزر رہی ہوں، مشال ملک

430

کراچی (اسٹاف رپورٹر)حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہاہے کہ قائد کے مزار سے کشمیر کی آزادی کی تحریک شروع کی جائے، کشمیر کے مسئلے کو پوری دنیا میں لے کر جائینگے امن کا راستہ کشمیر کے مسئلے سے جڑا ہے،کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا،

وہ کراچی آمد کے بعد جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پرصحافیوں سے گفتگو کررہی تھیں۔ مشال ملک کا کہنا تھا کہ میں کراچی آنے کے لئے بے تاب تھی کراچی کے تمام عوام کو سلام ہے جو کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لئے نکلتے ہیں اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، کشمیر کی مظلوم قوم جن پریشانیوں اور ظلم کا سامنا کرنا کر رہی ہے ہمیں اسکے لئے روشنی اور عزم کی ضرورت ہے مزار قائد جاونگی،

پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی مشکور ہوں جنہوں نے ہمیشہ ساتھ دیا ہے، جس طرح پاکستان کے لئے قائد اعظم نے تحریک چلائی اسی طرح کشمیر کے لئے بھی تحریک چلانے کی ضرورت ہے، امن کا راستہ صرف کشمیر کا مسئلہ حل کرکے ہی ممکن ہے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا،

کشمیری دنیا کی بہادر ترین قوم ہے، دنیا کی کوئی طاقت آج تک کشمیریوں کو ڈرا نہیں سکی ہے،انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، دنیا کو کشمیریوں کا فیصلہ تسلیم کرنا پڑے گا، بھارت یاسین ملک کو کشمیریوں سے جوڑنے کی سزا دے رہا ہے،

بعد ازاں مشال ملک نے مزارقائد پرحاضری دی اورفاتحہ خوانی کی۔اس موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ،میرے شوہر جب پہلی بار پاکستان آئے سب سے پہلے قائد کے مزار پی حاضری دی تھی،کشمیر میں جس طرح بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے دل خون کے انسو روتا ہے،میرے شوہراس وقت ڈیتھ سیل میں ہیں،میں بہت مشکل وقت سے گزر رہی ہوں،

انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں،ہزاروں نوجوانوں کو ٹارچر سیلز میں رکھا گیا ہے،ہم سب ایک ساتھ کشمیر کے لیے کھڑے ہیں یہ امید کی کرن ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس کا شوہر ڈیتھ سیل میں ہے صرف وہی عورت اس دکھ کو جان سکتی ہے،دن بہ دن مودی سرکار کا ظلم برھتا جا رہا ہے،

میں کراچی کے عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ قائد کے مزار سے کشمیر کی ازادی کی تحریک چلائیں،جو آپ کا پانی ہے وہ کشمیریوں کا خون ہے،ہمارے ہیرو اس وقت وہ ہیں جو کشمیر میں گولیوں کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہیں آپ کا فرض ہے کہ کشمیریوں کا ساتھ دیں اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہاکہ قائد اعظم کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے،

ہم قائد کی طرح بہادر بن کر کفن باندھ کرنکلیں گے میں جب بھی افسردہ ہوتی ہوں قائد کی جدوجہد کو یاد کرتی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کا یو این میں خطاب بہت معنی رکھتا ہے،بہت ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت اس پہ ڈپلومیسی کرے،یہ پورے کشمیر کی آواز ہے،

جس طرح پاکستان کے لئے قائد اعظم نے تحریک چلائی اسی طرح کشمیر کے لئے بھی تحریک چلانے کی ضرورت ہے، امن کا راستہ صرف کشمیر کا مسئلہ حل کرکے ہی ممکن ہے۔