حیدر آباد، مطالبات کی عدم منظوری پر مختلف تنظیموں کا احتجاج

44

 

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد پریس کلب پر مختلف تنظیموں اور افراد نے اپنے مطالبا ت کی حمایت میں الگ الگ مظاہرے کیے۔ محکمہ صحت سندھ کے ویکسی نیٹرز کی جانب سے مطالبات منظور نہ ہونے پر حیدرآباد پریس کلب کے سامنے تیسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس موقع پر ویکسینیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن حیدرآباد کے رہنمائوں شاہد زئی، نسیم جاوید اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ویکسینیٹرز گزشتہ کئی عرصہ سے ٹائم اسکیل کی منظوری، آفر لیٹر نہ ملنے اور مستقل نہ کرنے کیخلاف دیگر مطالبات منوانے کے لیے سیکرٹری ہیلتھ سمیت دیگر متعلقہ افسران کو آگاہ کرتے رہے ہیں لیکن ہماری کوئی بھی داد رسی کرنے کو تیار نہیں ہے جس کے سبب ہم اے پی آئی سینٹروں میں کام کرنے والے ویکسینیٹرز سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گرمی، سردی اور دیگر صورتحال میں معصوم بچوں کو 11 سے زائد خطرناک بیماریوں سے جان بچانے کے لیے انہیں ویکسین دیتے ہیں لیکن حکومت سندھ کے محکمہ صحت ہمارے جائز مسائل حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ ہمارے جائز مطالبات تسلیم کرکے دیگر مسائل حل کیے جائیں۔ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ سول اسپتال اور بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے ملازمین نے مطالبات منوانے اور مسائل کے حل کے لیے علیحدہ علیحدہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس حوالے سے سول اسپتال حیدرآباد کے ریٹائر ملازمین کی جانب سے سن کوٹہ کے تحت اولاد کو نوکریاں نہ ملنے اور اسپتال کے ڈائریکٹر ایڈمن عبدالستار جتوئی کی جانب سے غیر قانونی بھرتیاں کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور علامتی بھوک ہڑتال کی۔ اس موقع پر غلام قادر پلھ،اقبال چنڑ اور شہمیر شورو سمیت دیگر نے کہا کہ ہماری اولاد کو نظر انداز کرکے اسپتال میں من پسند بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سن کوٹہ پر عملدر آمد کرکے ہمارے بچوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں۔ بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے جبری برطرف ملازم اکبر عنایت علی نے نوکری پر بحالی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیہ میں ہونے والی کرپشن کیخلاف آواز اٹھانے پر نوکری سے برطرف کرنے کا نوٹس لے کر دوبارہ بحال کیا جائے اور تمام بقایا جات تنخواہیں جاری کی جائیں۔ میہڑ کے گوٹھ شاہ پنجو سلطان کی رہائشی مسمات سویرا عرف رانی نے اپنے شوہر محمد قاسم کے ہمراہ رشتے داروں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دیے جانے کیخلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے دوسرے روز بھی احتجاج جاری رکھا۔ اس موقع پر مسمات سویرا نے بتایا کہ میں نے اپنی مرضی اور خوشی سے محمد قاسم کے ساتھ 18 ستمبر 2019ء کو حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی ہے جس کے بعد میرے رشتہ دار اور عزیز سخت ناراض ہو کر میرے شوہر سمیت اُ سکے گھر والوں کیخلاف میرے اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہے جو کہ بے بنیاد ہے اور مجھے کسی نے بھی اغوا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ پولیس بھاری رشوت لے کر میرے رشتہ داروں کی پشت پناہی کررہی ہے اور مجھ سمیت میرے شوہر اور اُ سکے گھر والوں کو بلا جواز تنگ کیا جارہا ہے اور ہمیں قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے ارباب اختیار سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لے کر مجھے اور میرے شوہر کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ حیدر آباد کے ڈومراہ گوٹھ کی رہائشی اور دماغی امراض میں مبتلا دو بیٹوں کی ماں شاہدہ خاتون نے اپنے بیٹوں کے علاج میں مالی مدد کے لیے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے پہنچ کر اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ میرے دو بیٹے گزشتہ کئی سال سے دماغی امراض میں مبتلا ہو کر معذور ہوچکے ہیں، میں نے اپنے بیٹوں کا بہت علاج کرایا اور اب میں مالی طور پر علاج کرانے سے قاصر ہوں، جس کی وجہ سے اب مزید بیٹوں کا علاج نہیں کرا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ میں کرایہ کے گھر میں رہتی ہوں اور اب گھر کا کرایا بھی ادا نہیں کرسکتی جبکہ ڈاکٹر علاج کے لیے بہت زیادہ رقم طلب کرر ہے ہیں۔ انہوں نے مخیر حضرات اور صوبائی و وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹوں اطہر علی اور اظہر علی کا سرکاری خرچ پر علاج کرا کر ان کی زندگیاں بچائی اور میری مالی مدد کی جائے۔