کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں غیر معمولی کمی

176

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں غیر معمولی کمی کے باعث ٹیکسٹائل ملز کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے 20 لاکھ سے زائد روئی کی بیلز درآمد کرنا پڑ سکتی ہیں ۔چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 30ستمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں صرف 29 لاکھ 34 ہزار بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ 10 لاکھ 87 ہزار بیلز (27 فیصد) کم ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں ریکارڈ کمی کی بڑی وجہ پنجاب بھر میں کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی ہے جہاں 30 ستمبر تک صرف 11 لاکھ 66 ہزار بیلز پیدا ہوئی ہیں جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ 36 فیصد کم ہیں جبکہ سندھ بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مذکورہ عرصے تک صرف 17 لاکھ 68 ہزار بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ ناموفق موسمی حالات ہیں کیونکہ رواں سال کپاس کی بوائی اور ٹینڈے کھلتے وقت غیر متوقع بارشیں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں محکمہ موسمیاتی کو ہنگامی طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بروقت اور درست موسمیاتی پیشگوئیوں کے باعث کسان بروقت درست فیصلے کر سکیں ۔انہوں نے بتایا کہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے 16 اضلاع میں سے 13 اضلاع میں کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی سامنے آئی ہے جو 27 فیصد سے 72 فیصد تک ہے جبکہ سندھ کے 14 میں سے 9 اضلاع میں کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صرف 4 اضلاع میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔