سانحہ سیہون:جوڈیشل مجسٹریٹ سمیت  8گواہوں کے بیان قلمبند

52

کراچی(نمائندہ جسارت)کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کی
خصوصی عدالت نمبر16نے سیہون میں لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر دھماکے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ، ڈاکٹر اور تپے دار سمیت8گواہوں کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید گواہوں کو طلب کرلیا۔ جیل حکام نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمان نادر علی اور فرقان عرف فاروق کو پیش کیا، جوڈیشل مجسٹریٹ نے عدالت کے روبرو ملزم نادر علی کو شناخت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نادر نے میرے سامنے قبول کیا کہ اس نے دھماکے میں دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی، ایک دن پہلے سیہون میں کمرہ کرائے پر لیا تھا، مزار کے اندر داخل ہوکر معائنہ کیا کہ پلان کو کیسے کامیاب بنانا ہے۔ ٹپے دار خادم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ میں نے مزار کا نقشہ بنایا اور دھماکے کی جگہ کی نشاندہی کی۔ زخمیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں چھرے، بولٹ اور اسپرنگ لگے تھے، جیسے ہی دھماکا ہوا آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ 2ڈاکٹروں نے بیان میںکہا کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا اور زخمیوں کوطبی امداد دی۔ عدالت نے 15 اکتوبر تک سماعت ملتوی کرکے مزید گواہوں کو طلب کرلیا۔ پولیس کے مطابق 16 فروری 2017ء کو لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے بم دھماکے میں 82 افراد جاں بحق ، 383 زخمی ہوئے تھے۔
سانحہ سیہون