۔ 27اکتوبر سے آزادی مارچ کا اعلان، ڈی چوک سے جلدی نہیں اٹھیں گے، فضل الرحمٰن

94

 

اسلام آباد(صباح نیوز) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے حکومت ہٹانے کے لیے 27اکتوبرکو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کا اعلان کردیا۔ جمعرات کو اسلام آباد میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمینبلاول زرداری سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 15 لاکھ سے زائد لوگ ڈی چوک کی جانب مارچ کریں گے اور ڈی چوک سے جلدی نہیں اٹھیں گے ۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اصولوں پر کوئی سمجھوتا ہوگانہ پیچھے ہٹیں گے ، حکومت کو گھر بجھوا کر دم لیں گے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت بھی آزادی مارچ کے اسٹیج پر ہوگی،دونوں جماعتوں کے کارکنان بھی شریک ہوںگے۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان نہ ہونے کادعویٰ کرنے والے آزادی مارچ کے دوران گھروں سے بھی نہیں نکلیں گے، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ ان کی باتوں کا جواب دیا جاسکے، حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو پہلی اسکیم، دوسری اسکیم اور تیسری اسکیم بھی بنا لی ہے، کس نے کب کہاں کیاکرناہے حکمت عملی کے تحت ہوگا اور سب آئیں گے۔ فضل الرحمن کے
بقول اداروں سے تصادم کی صورتحال پیدا نہیںہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی م مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس ن لیگ کی درخواست پرہواتھا جس میں آزادی مارچ کے شیڈول میں ردوبدل کی تجویزدی گئی تھی،مرکزی مجلس عاملہ نے 27اکتوبر کو ہی آزادی مارچ کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول کوبھی اس بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے اور پیپلزپارٹی کا اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس متوقع ہے۔انہوں نے بتایاک ہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لیے بھی تینوںجماعتوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیاگیا ہے۔فضل الرحمن نے کہاکہ کتنے دن دھرنا ہوگا یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا تاہم کئی دنوں کی تیاری کرکے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اقتصادی بدحالی کے نتیجے میں کاروبار بند ہورہے ہیں، حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں، آخری پڑائو ڈی چوک میں ہوگا، کتنے دن بیٹھیں گے وقت آنے پر بتا دیں گے ۔جے یو آئی سربراہ نے واضح کیا کہ اب حکومت سے کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی اب اس کے جانے کاوقت آگیا ہے اور آخری مطالبہ حکومت سے نجات ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی نہیں ڈینگا سے واسطہ پڑ گیاہے، کسی دبائو کو قبول نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھاکہ اب تو ہمارے اس دبائو میں حکومت مکمل طورپر آگئی ہے، مزید دبائو میں آئے گی اور اب مذہبی کارڈ انہوں نے استعمال کرنا شروع کردیاہے ہوسکتاہے کہ ایک وقت آئے کہ مدرسہ میں درس و تدریس شروع کردیں اور داڑھی رکھ لیں۔ سربراہ جے یو آئی ف نے کہاکہ دونوں بڑی جماعتیں ساتھ ہیں آزادی مارچ میں کوئی تبدیلی نہیںہوگی ۔
آزادی مارچ