ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کے مقابلے کیلیے حکمت عملی مرتب کی جائے، اسفنداوصاف

28

ڈیرہ اسماعیل خان (خصوصی رپورٹ) اسلامک انٹرنیشنل اسکول سسٹم کی پرنسپل محترمہ عشرت بتول نے کہا ہے کہ پرامن مثالی معاشرے کی تشکیل اور وطن عزیز کو امن واستحکام کا گہوارہ بنانے کے مشن کی تکمیل کے لیے خواتین کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں، اس لیے خواتین کی کردار سازی اور ان کی جدید تقاضوں کے عین مطابق تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دیکر انہیں ملک و قوم کو درپیش چیلنجز سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر معاشرتی اصلاح کے قومی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنا یادگار کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارگومل یونیورسٹی کے ٹانک کیمپس اور قرطبہ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں پرامن معاشرے کے قیام کے لیے نوجوانوں اور خواتین کے کردار، سائبر سیکورٹی کے اقدامات اور انٹرنیٹ کے محفوظ طریقہ استعمال کے حوالے سے منعقد ہونیوالی ورکشاپس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گومل یونیورسٹی کے ٹانک کیمپس میں منعقدہ آگاہی ورکشاپ میں سائبر سیکورٹی کے ماہرین اور دانشوروں سمیت 8 سے زاید اسکولوں اور مختلف کالجز کے 250سے زاید طلبہ اور فیکلٹی ارکان نے شرکت کی۔ورکشاپ کے پہلے سیشن میں تربیتی استاد اسفند اوصاف نے موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت، افادیت اور اس کے تباہ کن اثرات کے بارے میں تفصیلی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ سائبر سیکورٹی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے تمام پہلوؤں کابغور جائزہ لیکر ایک جامع پالیسی اور حکمت عملی مرتب کرنیکی اشد ضرورت ہے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نوجوانوں کے ذہنوں پر نہ صرف اپنے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ نوجوانوں میں فرقہ وارانہ، نسلی اور دیگر معاشرتی تعصبات کو بڑھا چڑھا کرپیش کرکے نوجوانوں کو بغاوت پر اکسایا جاتا ہے، اس لیے پاکستان کے دشمن ممالک کی مسلط کردہ ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا مقابلہ کرنے اور دشمنوں کے ناپاک ایجنڈے کوناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر انٹرنیٹ کے تباہ کن اثرات کے انسداد کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ کے ذریعے صارفین کی اجازت کے بغیر ان کا ذاتی ڈیٹا بھی غلط طور پر استعمال ہورہا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں انٹرنیٹ پر ایسا جذباتی مواد شیئر کررہی ہیں جس سے نوجوان نسل گمراہی کا شکار ہورہی ہے،سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے سے عالمی معیشت، قومی سلامتی، معاشرتی امن واستحکام اور ریاستوں کے مابین تعلقات بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی اور تربیت دینا ہوگی تاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنیوالے نوجوانوں کو ملک دشمن عناصر کی جدید سائبر بدمعاشی کے مقاصد سے آگاہ کرکے انہیں خبردار کیا جاسکے کہ ان کے انٹرنیٹ سے ذاتی کوائف کو چوری کرکے ان کا کس طرح منفی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں نوجوان طلبہ کو مختلف حربوں سے ورغلاکر اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور بنیاد پرستی کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کی بھرتی کے لیے سائبر اسپیس کو تیزی سے استعمال کررہی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اس بارے میں بھی آگاہی دی کہ وہ انٹرنیٹ کے آن لائن خطرات سے اپنے آپ کو کس طریقے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ ماہرین نے شرکا کو بتایا کہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم اچھے مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مگر اس بارے میں انٹرنیٹ کے امکانی خطرات کو بھی مدنظر رکھناہوگا جس کے لیے ملک گیر آگاہی مہم چلا کر اسکولوں،کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو انٹرنیٹ اورسائبر سیکورٹی کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے حکومتی اداروں کو ایک جامع پلان مرتب کرنا ہوگا۔ ورکشاپ میں دیگر دانشوروں نے طلبہ کو متفقہ قومی بیانیے پیغام پاکستان کے اغراض و مقاصد اور اس کے اہم نکات کے بارے میں لیکچرز دیے۔ ورکشاپ کے دوسرے حصے میں دختران پاکستان پروگرام کے بارے میں لیکچرز دیے گئے، اسلامک انٹرنیشنل اسکول سسٹم کی پرنسپل عشرت بتول نے کہا کہ پاکستان کی نصف سے زاید آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور اپنے ملک کی اس بڑی آبادی کو کسی صورت بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو معاشرتی اصلاح کے لیے خواتین کے کلیدی کردار کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خواتین معاشرے میں امن و ہم آہنگی کے قیام و استحکام کے لیے اہم ترین کردار ادا کرکے معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین نظریاتی اختلافات اور تضادات اور عدم برداشت کے منفی رویوں کے اسباب و عوامل کا بھی تدار ک کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کا دختران پاکستان پروگرام کا مقصد معاشرے میں خواتین کے بنیادی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرکے خواتین کو ان کے جائز حقوق دلانا ہے جس کے لیے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں دختران پاکستان کانفرنسوں اور سیمینارز کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ورکشاپس کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے۔