تواضع انکسار

163

عبدالرحمن العریفی
ایک دفعہ میں روسائے شہر کی ایک پُروقار محفل میں موجود تھا۔ ایک رئیس زادے نے دورانِ گفتگو کہا: میں ایک مزدور کے قریب سے گزرا تو اس نے مجھ سے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ میں تردد میں پڑ گیا، پھر میں نے ہاتھ بڑھا کر اس سے مصافحہ کر لیا‘‘۔ اس نے بڑی رعونت سے کہا۔ ’’حالانکہ میں عموما اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں نہیں دیتا‘‘۔
مجھے رسول اللہؐ کا طرز عمل یاد آگیا۔ کوئی عام سی لونڈی بھی آپ کو راستے میں روک کر اپنے آقا کے ظلم یا کام کی زیادتی کی شکایت کرتی تو آپ اس کے مالک سے سفارش کرنے اس کے ساتھ چل پڑتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:
’’جس شخص کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا‘‘۔ (مسلم)
آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا: ’’فلاں آدمی متکبر ہے۔ فلاں خود پسند ہے۔ اس کے اس رویے کی وجہ سے لوگ اسے ناپسند کرتے اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں‘‘۔
آپ کسی ضرورت مند سے پوچھیں: آپ اپنے مسئلے کے حل میں اپنے پڑوسی سے مدد کیوں نہیں لیتے؟‘‘ تو وہ جواب دیتا ہے: ’’وہ بڑا متکبر ہے۔ وہ تو مجھ سے سیدھے منہ بات کرنے کا روادار نہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اس سے مدد لوں‘‘۔
واقعی وہ لوگ قابل نفرت ہیں جو اپنے آپ کو بڑا سجھتے ہیں اور لوگوں سے حقارت کا برتائو کرتے ہیں۔ وہ شخص بھی مسترد کیے جانے کے قابل ہے جو خود پسندی کا شکار ہیں۔
وہ شخص جو لوگوں کے سامنے کلا پھلاتا اور زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتا ہے، قابل گردن زدنی ہے اور وہ شخص بھی جو مزدوروں، نوکروں اور فقراء و مساکین پر رعب ڈالتا جھاڑتا اور ان سے ذلت امیز سلوک کرنا ہے، مردود ہے۔
رسول اللہؐ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ ان راستوں سے گزرے جہاں آپ کو اذیتیں دی گئیں، مذاق اڑایا گیا۔ انھی راستوں پر آپ نے بارہا یہ آواز بھی سنی: ’’ابے او پاگل، اوجادوگر، کاہن کہن کہیں کے، جھوٹے مکار…‘‘
آج اس شہر میں بالادست اور فاتح قائد کے کیا تاثرات، کیا احساسات تھے۔
عبداللہ بن ابی بکرؓ کا بیان ہے: ’’رسولؐ وادیِ ذی طوی میں پہنچے تو آپ کی سواری ذرا دیر کو رکی۔ آپ نے سر اور منہ پر سرخ ڈھاٹا باند رکھا تھا۔ اللہ نے آپ کو فتح سے نوازا تھا جس کی شکر گزاری میں آپؐ کو سر ربِ ذوالجلال کے حضور جکھا ہوا تھا اور آپ کی ٹھوڑی پالان کے اگلے حصے کو مس کر رہی تھی۔‘‘ (السلسلہ الصحیحہ)
ابن مسعود بتاتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہؐ کی خدمت میں آیا۔ اس نے کسی مسئلے پر آپ سے بات کی۔ اس دوران اپ کی ہیبت سے اس پر کپکپی طاری ہوگئی‘‘۔
رسول اللہؐ نے اس کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا:
’’اطمینان رکھیے۔ میں قریش کی ایک عام عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘ (المستدرک للحاکم)
رسول اللہؐ کہا کرتے تھے: ’’میں بندے کی طرح بیٹھتا اور بندے ہی کی مانند کھاتا ہوں‘‘۔ (ابن سعد)
کسی عربی شاعر نے تواضع وانکسار کی حقیقت بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے ؎
عاجزی اختیار کرو۔ تم تارے کی طرح ہو جائو گے جس کا برعکس دیکھنے والے کو پانی کی سطح پر نظر آتا ہے جبکہ وہ تارا اس سے بہت بلند ہے۔
دھواں مت بنو جو فضا کی پہنائیوں میں اپنے آپ کو بلند کرتا ہے، اس کے باوجود حقیر ہی ہوتا ہے
بالاختصار
جو اللہ کے لیے تواضع وانکسار اختیار کرے اور نیچا ہو، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔ تواضع کی بدولت اللہ بندے کی عزت وتکریم میں اضافہ کرتا ہے۔