افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

94

ایک نمونہ فرعون اور سرداران قوم ثمود اور سرکشان قوم لوط کا ہے جن کی سیرت فکر آخرت سے بے نیازی اور نتیجتاً نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کو تیار نہ ہوئے۔ یہ الٹے ان لوگوں کے دشمن ہو گئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنے ان بدکاریوں پر بھی پورا اصرار کیا جن کا گھناونا پن کسی صاحب عقل سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا۔
دوسرا نمونہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے جن کو خدا نے دولت، حکومت، اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفار مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے جوابدہ سمجھتے تھے، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے، اس لیے ان کا سر ہر وقت منعم حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبر نفس کا کوئی شائبہ تک ان کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا۔
تیسرا نمونہ ملکہ سبا کا ہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب جمع تھے جو کسی انسان کو غرور نفس میں مبتلا کر سکتے ہیں جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کر سکتا ہے وہ سرداران قریش کی بہ نسبت لاکھوں درجہ زیادہ اسے حاصل تھیں۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی، اور اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار کھنے کی خاطر بھی، اس کے لیے دین شرک کو چھوڑ کر دین توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لیے ہو سکتا ہے لیکن جب اس پر حق واضح ہوگیا تو کوئی چیز اسے قبول حق سے نہ روک سکی، کیونکہ اس کی گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے تھی۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر مسلط نہ تھا۔ خدا کے حضور جواب دہی کا احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہیں تھا۔ (دیباچہ، سورہ النمل)
٭…٭…٭
ہجرت سے پہلے اسلام کی دعوت خود کفر کے گھر میں دی جا رہی تھی اور متفرق قبائل سے جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے وہ اپنی اپنی جگہ رہ کر ہی دین کی تبلیغ کرتے اور جواب میں مصائب اور مظالم کے تختۂ مشق بنتے تھے۔ مگر ہجرت کے بعد جب یہ منتشر مسلمان مدینہ میں جمع ہو کر ایک جتھا بن گئے اور اْنہوں نے ایک چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کر لی تو صْورتِ حال یہ ہوگئی کہ ایک طرف ایک چھوٹی سی بستی تھی اور دْوسری طرف تمام عرب اس کا استیصال کر دینے پر تْلا ہوا تھا۔ اب اِس مْٹھی بھر جماعت کی کامیابی کا ہی نہیں بلکہ اس کے وجود و بقا کا انحصار بھی اس بات پر تھا کہ اوّلاً وہ پْورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے مسلک کی تبلیغ کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کرے۔ ثانیاً وہ مخالفین کا برسرِ باطل ہونا اس طرح ثابت و مبرہن کر دے کہ کسی ذی عقل انسان کو اس میں شبہہ نہ رہے۔ ثالثاً بے خان و ماں ہونے اور تمام ملک کی عداوت و مزاحمت سے دوچار ہونے کی بنا پر فقرو فاقہ اور ہمہ وقت بے امنی و بے اطمینانی کی جو حالت ان پر طاری ہو گئی تھی اور جن خطرات میں وہ چاروں طرف سے گھِر گئے تھے، ان میں وہ ہراساں نہ ہوں، بلکہ پورے صبر وثبات کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کریں اور اپنے عزم میں ذرا تزلزل نہ آنے دیں۔ رابعاً وہ پْوری دلیری کے ساتھ ہر اس مسلّح مزاحمت کا مسلّح مقابلہ کر نے کے لیے تیار ہو جائیں جو ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کسی طاقت کی طرف سے کی جائے، اور اس بات کی ذرا پروا نہ کریں کہ مخالفین کی تعداد اور ان کی مادّی طاقت کتنی زیادہ ہے۔ خامساً ان میں اتنی ہمّت پیدا کی جائے کہ اگر عرب کے لوگ اس نئے نظام کو، جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے، فہمائش سے قبول نہ کریں، تو انہیں جاہلیت کے فاسد نظامِ زندگی کو بزور مٹا دینے میں بھی تامل نہ ہو۔ (شان نزول سورہ البقرہ، تفہیم القرآن)