اللہ کی رحمت

348

مفتی عبداللطیف
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اللہ کی صفت رئوف بالعباد ہے، یعنی وہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت کرنے والا ہے۔ وہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اپنے بندوں کو کسی عذاب میں مبتلا کردے۔ بلاشبہ آزمائشیں ایمان والوں پر آتی ہیں، ان کے درجات کو بلند کرنے یا ان کے گناہوں کو مٹانے کے لیے۔ مگر اللہ کی طرف سے ایک ایسی پکڑ آئے جو ذلت اور رسوائی بن جائے، تو یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی پرواہ کرنا چھوڑ دی۔ اگر تمہارا رونا، گڑگڑانا، عمل کرنا نہ رہے تو اللہ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
بخاری کی روایت ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہؐ کے سامنے جب کفار کے جنگی قیدی لائے گئے، تو وہاں ایک ماں بہت پریشان تھی، دیوانوں کی طرح دوڑ رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ یہ سارا منظر صحابہ کے سامنے تھا۔ ماں ہر بچے کو گود میں لیتی، پیار کرتی، پھر محسوس کرتی کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے۔ وہ اپنے بچے کو ڈھونڈنے میں بڑی بیتاب تھی۔ آخر کار ماں کو اس کا گمشدہ بچہ مل گیا۔ ماں نے بچے کو اٹھایا، سینے سے لگایا اور دودھ پلانے لگ گئیں۔ اس کے سارے غم راحت میں بدل گئے۔ جب یہ منظر رسول اور صحابہ کرام نے دیکھا، تو رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اے صحابہ! کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں گرا سکتی ہے؟ یہ ماں جتنی زیادہ اپنے بچے سے محبت کرتی ہے، اللہ کریم اس سے کئی گنا زیادہ اپنے بندوں پر رحیم ہے۔
اللہ نہیں چاہتا کہ اپنے بندوں کو جلتی ہوئی آگ میں گرائے۔ اللہ تمہیں معاف کرنا چاہتا ہے، اپنا محبوب بنانا چاہتا ہے۔ ان گنت غلطیاں کرنے کے بعد بھی اللہ کی طرف رجوع کر لو تو اللہ تعالیٰ ان غلطیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔
یاد رکھیں! اللہ کو ہماری دعائوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ نیک لوگ ایک ایک کرکے ختم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ نکمے لوگ بچ جائیں گے۔ محدثین لکھتے ہیں کہ جب تک نیک لوگ موجود ہیں یا لوگوں میں صالحیت موجود ہے، تب تک قیامت نہیں آئے گی۔ غور کریں! آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ ہماری پرواہ نہیں کر رہا، اس کی وجہ کیا ہے؟ گھر میں جب کوئی صالح باقی نہیں بچتا تو اللہ کو اس گھر کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ قلم میں ان لوگوں کا ذکر کیا، جن کا باغ عذاب الٰہی کی زد میں آیا۔ وہ گھروں میں سوئے ہوئے تھے اور اللہ کی طرف سے باغ کو نیست و نابود کردیا گیا۔ ان کا باپ بڑا صالح اور نیک تھا۔ اپنے باغ کے پھل میں سے غریبوں، یتیموں کو حصہ دیتا تھا۔ اولاد نے مشورہ کیا کہ ہمارا باپ غریبوں، یتیموں پر مال لٹا دیا کرتا تھا، ہمیں اس طرح مال لٹانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم صبح سویرے چپکے سے باغ جائیں گے، اپنا پھل اٹھا کر لے آئیں گے۔ ابھی رات کو یہ سوچ رہے تھے کہ اللہ کا لشکر چکر لگا کر چلا گیا۔ صبح جب یہ اپنے باغ پہنچے تو اسے اجڑا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں۔
سورہ کہف میں موسیٰ اور خضر علیہم السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ جب یہ ایک بستی میں گئے تو دیکھا کہ ایک دیوار گر رہی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو سیدھا کردیا۔ وجہ کیا بیان کی کہ اس دیوار کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ ہے اور ان دونوں بچوں کا باپ بڑا نیک تھا۔ (سورۃ الکہف: 82) باپ کی نیکی اولاد کو فائدہ دیتی ہے۔ اولاد کو اپنے باپ کی نیکی سنبھالنی چاہیے۔ آج کتنے ایسے لوگ ہیں، جن کے باپ نیک تھے اور ان کی اولاد نے اپنے نیک باپ کی نیک نامی میں مزید اضافہ کیا؟ جنہوں نے نیکی کا لحاظ نہیں کیا، اللہ نے بھی ان کی پرواہ نہیں کی۔ یاد رہے اللہ تعالیٰ مال زیادہ دے کر بھی آزماتا ہے۔ مال کا بڑھ جانا عزت کی دلیل نہیں ہے۔ آج معاشرے میں دیکھ لیں، پورے کنبے میں دادا نانا سمیت سو سو افراد موجود ہیں، مگر کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس پر انگلی رکھ کر کہا جائے کہ یہ وہ بندہ ہے جس کی وجہ سے اللہ برکتیں نازل کرتا ہے یا اس کی وجہ سے گھر میں برکتیں باقی رہتی ہیں۔
فرمان رسولؐ ہے کہ یہ دنیا ختم نہیں ہوگی، یعنی قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک یہ وقت نہ آجائے کہ لوگوں میں سب سے سعادت مند، خوش بخت اس انسان کو سمجھ لیا جائے جو کمینہ ابن کمینہ ہو۔ (ترمذی) لوگ اس کو عزت والا سمجھتے ہوں گے، حالانکہ اس میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ جب ہم اسلام کی بتلائی ہوئی راہ کی پرواہ نہیں کریں گے تو اللہ بھی ہماری پرواہ نہیں کرے گا۔ آج مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اللہ کو ہماری پرواہ نہیں ہے، کیوں کہ ہم نے اللہ کو بھلا دیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کو ہماری پرواہ ہو تو اللہ کو پکارا جائے، اسلام اور ایمان کو مقدم رکھا جائے، مظلوم کی مدد کی جائے۔ اس طرح گھروں اور محلوں میں صالح لوگ پیدا ہوں گے۔