کوئی کسی کو کما کر نہیں دیتا

127

ڈاکٹر خالد مشتاق
شاہ فیصل کالونی نمبر 3 میں ہمارے دوست کی گلی میں ایک نوجوان حکیم صاحب رہتے تھے۔ یہ نوجوان ہمیشہ لوگوں کے فائدے کی بات کرتے۔ حکمت کی پریکٹس کرتے تھے، نزلہ، کھانسی زکام، پیٹ درد، گیس پر شکایت کے لیے دوا مفت میں دیتے۔ لوگ ان سے بہت متاثر تھے۔ یہ یہاں سے نوجوانوں کو کورنگی سو کوارٹر کے قریب واقع مسجد کے درس میں لے جانے کی ترغیب دیتے۔ پہلے چند جوان جاتے پھر سوزوکی بھر کر جانے لگی اور پھر بس بھر کر جانے لگی۔ حضرت صاحب درس دیتے اور لوگ متاثر ہوتے۔ رفتہ رفتہ ان کے معجزے کے تذکرے ہونے لگے۔ مشہور ہوا کہ جن بھی درس سننے آتے ہیں۔ اور پھر جنوں کے لیے الگ جگہ بننے کی خبریں آئیں، پھر یہ سنا جانے لگا کہ حضرت صاحب کے پاس لوگ جن اتروانے بھی آتے ہیں، کچھ جن مسلمان ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے مذاہب کے۔ حضرت صاحب کئی ہندو جنوں مسلمان کرچکے تھے۔ جن کے قصے تو ہم پہلے بھی سن چکے تھے، ہمارے ایک دوست کے رشتے دار عالم تھے اور وہ جب بھی اپنے انکل کے گھر سے آتے جن اور جنی کی باتے تھیاس لیے ہم میں سے کوئی بھی اس سے متاثر نہ ہوا لیکن معاشرے کے ہزاروں لوگ کورنگی جانے لگے۔
حضرت صاحب کے والد صاحب نے دلی انڈیا کے قریب واقع مدرسہ سے تعلیم حاصل کی۔ حضرت کا بچپن بھی وہاں گزرا جن کے بارے میں وہ بچپن ہی سے بہت معلومات رکھتے تھے لیکن اب آہستہ آہستہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کے پاس آنے لگے تھے۔ امیر اور غریب سب یہاں آتے۔ حضرت صاحب کے قریبی چند افراد نے غیر سودی بزنس شروع کردیا۔ یہ حضرت کو تحفہ تحائف بہت دیتے، ان کے یہاں آنے والوں کو کھانا کھلاتے، اس طرح یہ حضرت صاحب کے قریبی شمار ہونے لگے۔ حضرت صاحب کے ساتھ دو طرح کے لوگ تھے۔ اکثریت حکیم صاحب جیسے مخلص لوگوں کی تھی جو مذہبی جذبے سے کام کررہے تھے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو درس کے لیے لے جاتے۔ انہیں مسجد سے قریب کرتے، اپنا مال بھی خرچ کرتے لیکن حضرت صاحب کے قریبی عزیز، رشتے دار اور ٹی جے صاحب جیسے مرید بھی تھے جو دکھاوے کے کام میں آگے رہتے اور حضرت صاحب کے مریدوں میں سے امیر لوگوں، سفید پوش لوگوں کو یہ یقین دلاتے کہ وہ حضرت صاحب کے ساتھی ہیں۔ جن اُتارنے کے علاوہ ان کے معاشی مسئلہ کا حل بھی کرسکتے ہیں۔ حضرت صاحب پہلے جوبلی سینما کے قریب رہتے تھے یہ چھوٹی مسجد تھی، پھر یہ 100 کوارٹر کورنگی کے قریب بڑی جگہ پر منتقل ہوئے۔ جن والے قصوں سے لوگ تیزی سے متاثر ہوئے تھے۔ سفید پوش، امیر لوگوں میں سے کچھ افراد کو ٹارگٹ بنا کر ٹی جے صاحب نے کمپنی بنائی، ان لوگوں کا سرمایہ لگایا اور بہت زیادہ منافع ماہانہ دینا شروع کیا۔ یہ بات مشہور ہوگئی اور بلاسود کاروباری منافع والے کاروبار کے نام پر مریدوں سے رقم لینا شروع کردی۔ حکیم صاحب جیسے مخلص لوگ اس سارے چکر کو نہ سمجھ سکے۔ حضرت صاحب جوبلی سینما کے قریب بندر روڈ پر رہائش پزیر رہ چکے تھے۔ ان کے قریبی بندر روڈ پر اس طرح کے ایک اور سلسلہ چل رہا تھا وہاں بھی لوگ مذہبی جذبات کے تحت ثواب کے لیے جاتے، یہاں آنے والوں کے لیے بھی اسی طرح غیر سودی کاروبار کے لیے کمپنی بنائی گئی جس کا نام ’’Alliance Motors‘‘ رکھا گیا۔ ٹی جے ابراہیم صاحب کی کمپنی اور ’’Alliance Motors‘‘ نے ایک جان ہو کر کام کرنا شروع کیا۔
معاشرے کے ایسے افراد جو نماز روزے کے پابند تھے سودی کاروبار سے بچنا چاہتے تھے ان کو ٹارگٹ بنا کر ان لوگوں نے بھرپور مہم چلائی اور کروڑوں روپے جمع کرنے لگے۔ میرے والد صاحب گورنمنٹ ملازم تھے۔ ریٹائرمنٹ پر رقم ملی، اس میں سے کچھ انہوں نے بھی اس غیر سودی کاروبار میں انویسٹ کردی تھی۔ میں والد صاحب کے ساتھ پرانی سبزی منڈی پر واقع الائنز موٹرز کے دفتر کئی مرتبہ منافع کی رقم لینے گیا۔ یہ بہت شاندار آفس تھا، بڑی عمارت تھی، آنے والوں سے بہت اخلاق سے ملتے، ہر آنے والے کو مکمل سلام کرتے، پہلے بٹھاتے، پانی پیش کرتے، بڑا دینی ماحول تھا، سارا اسٹاف کلرک، چپڑاسی، چوکیدار سب چہرہ سے مذہبی حلیہ اور اُونچی شلوار میں ہوتے، آفس میں نماز کے اوقات میں وقفہ ہوتا، حلال کمائی، غیر سودی کاروبار کے بارے میں آیات پر مشتمل خوبصورت لکھے ہوئے پوسٹر چاروں طرف لگے ہوئے، آنے والے افراد اس مذہبی ماحول سے بہت متاثر ہوتے، کسی کے ذہن میں بھی ان کے متعلق کوئی منفی بات نہیں آتی۔ پھر اچانک سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ ٹی جے ابراہیم صاحب کی کمپنی، الائنز موٹرز سب غائب، سفید پوش لوگوں نے اپنی جمع پونجی اور پنشن کی رقم ان کے کاروبار میں لگادی تھی، ہر ماہ رقم مل جاتی، ان کا گزاراہ ہوجاتا۔ والد صاحب اور ان کے بہت سے دوست اپنی پنشن کی رقم سے بھی گئے اور ان کا مذہبی حلیہ، درس دینے والے، بڑی درسگاہ سے فارغ حضرت صاحب وغیرہ پر سے اعتماد اُٹھ گیا۔ 50 ہزار افراد کے 357 کروڑ روپے یہ کھا گئے۔ ان لوگوں نے جگہ اپنا پیسہ محفوظ سمجھ کر غیر سودی سمجھ کر دے دیا تھا، وہ تو بڑے فراڈ نکلے۔ کئی بزرگوں نے کہا ’’ہمارے بزرگوں نے ٹھیک ہی کہا تھا، جب تک خود نہ محنت کرو گے کوئی کام ممکن نہیں، کوئی کتنا ہی مذہبی باتیں کرے لیکن کسی کو کما کر نہیں دیتا‘‘۔
اس واقعے کے چند اہم پہلو ہیں۔
-1 جس فرد، گروہ میں خود صلاحیت نہیں ہوتی، علم نہیں ہوتا، عمل نہیں ہوتا، وہ اپنی مشہوری کے لیے ’’جن‘‘ کا سہارا لیتے ہیں۔
-2 عالم بے عمل کی پہچان یہی ہے۔ وہ ہمیشہ جن کی باتیں کرے گا۔ حالاں کہ جن بھی ہماری طرح ایک مخلوق ہیں۔ یاد رکھیں نبیؐ کی پیدائش کے بعد جنوں کے آسمان پر جانے پر فائرنگ ہوتی ہے، پہرہ بٹھادیا ہے، وہ غیب کی خبریں نہیں لاسکتے۔ (سورئہ جن القرآن)
اس لیے جو بھی شخص نبیؐ پر درود سلام بھیج رہا ہے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ جن کچھ کرسکے۔ جس گھر میں درود شریف پڑھا جارہا ہو جن کی مجال نہیں کہ وہ گڑبڑ کرسکے۔ جنوں میں اچھے بُرے لوگ ہیں لیکن نبیؐ کی محبت، درود شریف وہ ہتھیار ہے جس کا توڑ کسی جن کے پاس نہیں۔
-3 غیر سودی کاروبار کا درس، ناتجربہ کار لوگ، مذہبی حلیہ کے ساتھ لوگوں کو بے وقوف بنا کر خود امیر بننے کی خواہش ایک اچھا عمل نہیں، ایسے لوگوں سے ہشیار رہیں۔
-4 دوسروں کی دولت کا سہارا لے کر خود امیر بننے کی خواہش رکھنے والوں کا انجام ذہنی پریشانی، ڈپریشن ہوتا ہے۔ الائنز موٹرز کے افراد جیل میں ہیں یا ملک سے بھاگے ہوئے، بے سکون زندگی ہے۔
-5 اسی طرح دوسروں سے یہ امید رکھنا کہ وہ محنت کرکے آپ کو کما کر دیں گے، یہ خواہش بھی آخر میں پریشانی، بے سکونی کا باعث بنتی ہے۔
-6 خود محنت کریں۔ اپنا کاروبار چاہے چھوٹا ہو وہ بہتر ہے۔ Status Quo کے خیال سے نکل کر محنت کریں کامیابی، پرسکون زندگی آپ کا مقدر ہوگی۔