طالبان تحریک اور حکومت

321

روسی قبضے کے خلاف افغانوں کی طویل اور صبر آزما سیاسی و عسکری جدوجہد کے حاصل پر پڑوسی ممالک نے اپنی ترجیحات اور مفادات کے تحت پانی پھیر دیا۔ پاکستان عقل کل کے زعم میں تھا۔ ایران جہاد کے دوران ہی شمال کے اندر تار و پود جوڑنے میں لگا رہا۔ مئی 1986ء کو اقتدار کی مسند پر بٹھائے جانے والے ڈاکٹر نجیب اللہ احمدزئی زیر اثر تھے۔ درحقیقت مختار کل کارمل گرو پ تھا جو محمود بریالئی، جنرل نبی عظیمی، جنرل بابا جان، فرید مزدک، جنرل آصف دلاور اور عبدالوکیل وغیرہ جیسے موثر اشخاص پر مشتمل تھا۔ ان میں سابق کمیونسٹ صدر ببر ک کارمل کا بھائی محمود بریالئی اور فرید مزدک بڑھ کر قوت و اختیار رکھتے تھے۔ ڈاکٹر نجیب کی حیثیت آخری برسوں میں قطعی یرغمال صدر کی تھی۔ جہادی تنظیمیں کابل حکومت پر حاوی ہو گئیں، سوویت یونین کے پاس با عزت واپسی کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہ رہا۔ جنیوا معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ زور پکڑے ہوئے تھا۔ چنانچہ چودہ اپریل 1988ء کو پاکستان کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے معاہدہ جنیوا پر دستخط کر دیے۔ ان کے اس اقدام سے جنرل ضیاء الحق کو صدمہ پہنچا۔ جونیجو حکومت کے وزیر خارجہ اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ سمیت کئی صاحب الرائے جونیجو کو معاہدہ کے نقائص، نتائج، عواقب اور مضمرات سے آگاہ کرتے رہے۔ اور ان کا اس ضمن میں احتجاج بھی ڈھکا چھپا نہ تھا۔ مگر محمد خان جونیجو دستخط کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
جیسے کہا کہ معاہدہ نقائص سے پُر تھا، جس کے ذریعے روس کو بڑی آسانی سے بغیر کسی ذمے داری پورے کیے نکلنے کا راستہ مل گیا۔ اس معاہدے سے یہ تاثر راسخ ہوا کہ روسی فوجیں افغانستان میں کابل کی کمیونسٹ حکومت کی دعوت پر داخل ہوئی تھیں۔ اور ان کے کہنے پر ہی واپس جا رہی ہیں۔ انتقال اقتدار، عبوری حکومت کی تشکیل اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام کا کوئی جامع فارمولا پیش نہ ہو سکا۔ افغان جہادی جماعتیں مذاکرات کے عمل میں یکسر نظر انداز کر دی گئیں۔ افغان مجاہد رہنمائوں کے بجائے پاکستان مذاکرات کی میز پر نمودار کر دیا گیا۔ دراصل یہی سوویت یونین کی خواہش بھی تھی۔ سوویت یونین اور امریکا افغانستان کو مشروط آزادی پر رضا مند کرنا چاہتے تھے تاکہ ان کے مفادات محفوظ ہوں۔ روس نے یہ حکمت عملی بڑھائے رکھی کہ دنیا کو باور ہو کہ ان کی جنگ افغانوں کے بجائے امریکا کے ساتھ تھی۔ اس خاطر جہادی تنظیموں سے رو برو مذاکرات سے پہلو تہی کرتا تھا۔ اور ان کی یہ مراد پاکستان نے پوری کر دی۔ افغان جہادی جماعتوں کے رہنماء مذاکرات کی میز سے دور رکھے گئے۔ اس ذیل میں پاکستان فی الواقع امریکا کی خفگی کا متحمل نہ تھا۔ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار موقف دہراتے کہ کسی بیرونی قوت کو افغانوں کے حکمرانوں کے انتخاب کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ قطر میں قائم افغان طالبان کا سیاسی دفتر ماضی کی ان خطائوں، جال اور سازشوں کو پیش نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور امریکا سے خود دو بدو افغانستان کے مستقبل کی صورت گری پر بات چیت میں شامل ہیں۔
جنیوا معاہدہ اصل میں کابل کی کمیونسٹ رجیم کی حکومت تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ اہم بات یہ کہ مجاہدین نے اپنی نمائندگی کا اختیار سرے سے پاکستان کو دیا ہی نہ تھا۔ قصہ مختصر یہ سب روس اور امریکا کی آسانی کے لیے رچایا گیا۔ چنانچہ روسی افواج 1989ء کو انتقال اقتدار کے بغیر نکل گئیں۔ کابل حکومت اپنی جگہ قائم رہی، انہیں روس سے ہر طرح کی امداد بدستور جاری رہی۔ جبکہ جہادی تنظیموں کی امداد یکسر بند کر دی گئی۔ یوں افغانستان ایک نئی مشکل اور آزمائش سے دوچار ہوا۔ پاکستان نے عبوری حکومت کی لا حاصل کوششیں شروع تو کر دیں۔ لیکن اصل کھیل ایران، روس اور بھارت کے ہاتھ منتقل ہوا۔ یہاں تک کہ فرانس بھی احمد شاہ مسعود اور دوسروں کی مدد کے لیے میدان میں آ گیا۔ ان ممالک نے شمال اور کمیونسٹ دور کے لوگوں کو مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ فی الاصل اب تہران سفارتی معاملات اور سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا۔ نحیف و نزار ڈاکٹر نجیب نے دبائو کے تحت جوز جانی ملیشیا کابل پہنچانے کا فرمان جاری کیا۔ ڈاکٹرنجیب وطن پارٹی سے بھی بے دخل کر دیے گئے۔ بلکہ پارٹی ہاتھ میں لینے والے محمود بریالئی، فرید مزدک، جنرل نبی عظیمی وغیرہ کے آگے ڈاکٹر نجیب قطعی بے بس و لاچار ہو گئے۔ بالآ خر ڈاکٹر نجیب کو سال 1992کے اپریل کی پندرہ تاریخ کو مستعفی ہونا پڑا اور اقتدار ببرک کارمل گروپ نے ہاتھوں میں لے لیا۔ کارمل گروپ نے ڈاکٹر نجیب کو افغانستان سے باہر جانے بھی نہ دیا۔ ائر پورٹ جاتے ہوئے ڈاکٹر نجیب کو رازق نامی ایک ادنیٰ کمانڈر نے روکا۔ ڈاکٹر نجیب اپنے ہم جماعتوں کے ارادوں سے بے خبر نہ تھے۔ یوں وہاں سے سیدھے اقوام متحدہ کے دفتر پہنچے، اور وہاں پناہ لے لی۔
کابل کے اندر بہت گہری سازشوں کے تانے بانے بُنے جا رہے تھے اور پاکستان کی حکومت اور مقتدر حلقوں کی آنکھوں پر غفلت کی سیاہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ روس، امریکا اور ایران کی طرح ہمارے با اثر حلقے بھی حزب اسلامی افغانستان کا راستہ روکے ہوئے تھے۔ اپنے گھمنڈ کے تحت معاہدہ پشاور کرا کر نجات ملی کے سربراہ صبغت اللہ مجددی کو دو ماہ کے لیے عبوری صدر بنایا گیا۔ یہ معاہدہ چوبیس اپریل 1992کو ہوا۔ ایک کمزور شخص کو شورش زدہ ملک میں اتنی بڑی ذمے داری سونپی گئی۔ وہ پہلے ہی شمال کی جماعتوں سے گٹھ جوڑ کی نیت کر چکا تھا۔ مجددی انتخابات کیا کراتے ان کے دل میں اپنے لیے طویل اقتدار کی خواہشات انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ کسی نے پوچھا کہ کوئی دو ماہ کے لیے چرواہا بننا پسند نہیں کرے گا اور آپ صدر بن گئے۔ صبغت اللہ مجددی نے جواب میں کہا کہ اسلام میں جب ایک بار حکومت دی جاتی ہے تو پھر اسے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ مطلب برآری کی خاطر صبغت اللہ مجددی کے کمیونسٹ دور کے جرنیلوں، کمانڈروں اور سیاسی لوگوں پر نوازشات کے دروازے کھول دیے۔ افغانستان کے ایک سفاک کردار جنرل رشید دوستم کو ایک عظیم سپاہ سالار اور وقت کے خالد بن ولید کا خطاب دیا۔ مجددی ایک ڈمی صدر تھے اصل اقتدار و اختیار ببرک کارمل گروپ، ربانی، احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم پر مشتمل شمالی اتحاد کے پاس تھا۔ مجددی نے کابل پہنچ کر شمال کی ملیشیائوں، وطن پارٹی کے ببرک کارمل گروپ کے چھ افراد محمود بریالی، جنرل نبی عظیمی، جنرل بابا جان، فرید مزدک، جنرل آصف دلاور اور عبدالوکیل کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔ ان
لوگوں کو معاہدہ پشاور کے بر خلاف بنائی جانے والی اکیاون رکنی شوریٰ میں شامل کر لیا۔ حالانکہ یہ شوریٰ فقط مجاہدین کی حکومت کے لیے بنائی گئی تھی۔
گلبدین حکمت یار اپنے حقیقی موقف پر اب بھی قائم تھے۔ جنہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ملک میں عبوری حکومت، عبوری آئین اور اس کی بنیاد پر عام انتخابات کے انعقاد کے اس مطالبے و موقف کو بھی پرکاہ برابر اہمیت نہ دی گئی۔ بعدازاں اسلام آباد معاہدے کے تحت برہان الدین ربانی صدر بنائے گئے۔ گلبدین حکمت یار کے خدشات کے عین مطابق برہان الدین ربانی بھی اقتدار سے چمٹ گئے۔آئین اور انتخابات کے انعقاد کی اہمیت سرے سے نہ رہی۔ ربانی کا یہ عمل اسلام آباد معاہدے اور افغان جماعتوں سے کیے گئے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی تھی۔ گویا مجددی اور ربانی اور دوسرے پاکستان مخالف کیمپ میں چلے گئے۔ ربانی بھی کمزور شخص تھے۔ احمد شاہ مسعود جو جمعیت اسلامی کے عسکری ونگ کے سربراہ تھے، ان پر حاکم تھے۔ ان کے سامنے ربانی کی ایک بھی نہ چلتی تھی۔ اس حکومت کو بھی ایران، روس اور بھارت کی پوری حمایت و تعاون حاصل رہا۔ ایران شمال کی قوتوں کو افغانستان پر مسلط طاقت بنانا چاہتا تھا۔ ان کی یہ تمنا اب بھی موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے مسلکی اور لسانی تعصبات کو ہوا دی گئی۔ عبوری حکومت میں احمد شاہ مسعود کو دفاع کی وزارت سونپی گئی۔ جنرل نبی عظیمی نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کمیونسٹ دور کی افواج کو احمد شاہ مسعود کے سامنے تسلیم ہونے اور ان کی تعمیل کا حکم دیا۔ جنرل نبی عظیمی کمیونسٹ رجیم کے نائب وزیر دفاع تھے۔ گلبدین حکمت یار تنہا کر دیے گئے۔ جہاد کے ثمرات ضائع ہو گئے۔ پاکستان مزید عذاب میں مبتلا ہوا۔ برہان الدین ربانی احمد شاہ مسعود کی نظار شوریٰ اور کمیونسٹ دور کے جنرلوں اورسیاسی لوگوں کے اشتراک اور اتحاد سے بننے والی حکومت اعمال و پالیسیوں کی بنا پرانی حکومت ہی تھی۔ جن کے خلاف افغانوں نے بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی تھیں۔ گویا محض چہرے اور کردار بدل گئے تھے۔ امریکا، ایران، پاکستان اور روس حکمت یار کے پیچھے پڑ گئے۔ پاکستان کی زمین ان پر تنگ کر دی گئی۔ دفاتر بند کر دیے گئے۔ حتیٰ کہ بینکوں کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے۔
(جاری)