عالمی

242

\سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متنبہ کیا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کی جنگ عالمی معیشت تباہ کردے گی۔ انہوں نے عالمی برادری کو ڈرانے کی کوشش کی ہے کہ اس نے ایران کو نہ روکا تو کشیدگی مزید بڑھے گی۔ تیل کی قیمتیں اتنی بڑھ جائیں گی جن کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ انہوں نے پیشکش کی ہے کہ ایران حوثی باغیوں کی پشت پناہی چھوڑ دے تو ہم یمن میں جنگ بند کردیں گے۔ عجیب بات ہے کہ کچھ اسی قسم کی باتیں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی کرچکے ہیں۔ وہ امریکا میں یہ بات کررہے تھے کہ بھارت کو روکا جائے۔ دنیا بھارت یا انصاف میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ انہوں نے بھی یہی دھمکی دی تھی کہ اگر دو ایٹمی ممالک میں جنگ چھڑ جائے تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ساری دنیا پر اس کا اثر ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا عمران خان کی تقریر پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوئی اور امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے شہزادہ محمد کے انٹرویو نے بھی دنیا کے خیالات میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں پیدا کی۔ جس طرح عمران خان نیازی کی دھمکی یا دنیا کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کا کوئی اثر نہیں ہوا اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان کی بات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اثر تو عمل سے ہوتا ہے خود سعودی ولی عہد نے پیشکش کردی ہے کہ ایران حوثیوں کی پشت پناہی بند کردے تو ہم جنگ بند کردیں گے۔ یعنی اثر ایران کی جانب سے حوثیوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ بعینہ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر بھارت کشمیر میں کرفیو ختم کردے تو اس سے مذاکرات کرنے پر تیار ہیں۔ دونوں شہزادوں سے سوال ہے کہ ایران مداخلت کیوں بند کرے گا اور بھارت مذاکرات کیوں کرے گا۔
جس طرح ہمارے وزیراعظم کا بیان ہے کہ آزاد کشمیر میں گھس کر دکھائو منہ توڑ دیں گے اسی طرح بھارتی آرمی چیف جنرل راوت نے بیان دے دیا کہ پاکستان میں گھس کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ اس طرح سعودی عرب کا حال یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ سعودی فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کی یقین دہانی کرارہے ہیں جب کہ خود پاکستان کشمیر کے معاملے میں بے بس ہے۔ اگر دنیا ایسی دھمکیوں سے ڈرنے والی ہوتی اسرائیل، بھارت اور ایران کو دھمکیوں سے روکا جاسکتا تو کب کے یہ مسائل حل ہوجاتے۔ لیکن ایران نے حوثیوں کی پشت پناہی کی بلکہ اس کا برملا اعلان ان کے جنرل قاسم نے خود کیا۔ بھارت نے کشمیر پر قبضہ جمانے کے لیے اپنی پارلیمنٹ سے قانون منظور کروایا۔ اسرائیل باقاعدہ سرکاری اعلان کرکے فلسطینیوں کی بستیاں اجاڑتا ہے اور ہماری طرف سے صرف دھمکیاں اور خوفزدہ کرنے والے بیانات ہوتے ہیں۔ لیکن ان دھمکیوں اور خوفزدہ کرنے والے بیانات کی پشت پر کوئی کارروائی، کوئی ٹھوس قدم نہیں ہو تو دنیا کیوں خوفزدہ ہوگی۔ شیخ رشید صاحب کی ایک کلو دو کلو اور ایک پائو کے ایٹم بم کی بڑھک کس کام کی، اگر پاکستان نے اپنی افواج کشمیر میں کھڑی کر رکھی ہوں، فضائیہ کے طیارے حرکت میں ہوں، اور بحریہ کی فریگیٹس گشت کررہی ہوں تو بھارت اور عالمی برادری کو یہ خوف ہوسکتا ہے کہ کوئی روایتی جنگ ہی چھڑ جائے گی۔ لیکن جس چیز کو ہم عالمی برادری کہتے ہیں وہ منافقت کا شاہکار ہے۔ اس عالمی برادری کو ہم پاکستان میں سول سوسائٹی کے نام سے جانتے ہیں، جو اپنی مرضی یا ایجنڈے کے مطابق مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ یہی حال عالمی برادری کا ہے، اسے لاکھوں برمی روہنگیا مسلمانوں کا درد نہیں ہوتا۔ اسے بنگلادیش میں ظالمانہ پھانسیوں پر کوئی غم نہیں، یہ عالمی برادری افغانستان میں ڈیزی کٹربموں کے استعمال سے بھی بالکل متاثر نہیں ہوتی۔ اس عالمی برادری کو یمن، شام، عراق، فلسطین وغیرہ میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکت پر کوئی درد نہیں اُٹھتا۔ اسے ملالہ یوسف پر نام نہاد حملے کی فکر ہوتی ہے، توہین رسالت کی مجرمہ کی آزادی اظہار کی فکر ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جو دنیا بھر میں دہشت گردی ہے اس کے پیچھے عالمی برادری ہی ہے۔ ہم جسے عالمی برادری سمجھتے ہیں وہ تو محض چہرہ ہے، اصل عالمی برادری تو اسلحے کے تاجر ہیں۔ عالمی وسائل پر قبضہ کرنے والی مافیا ہے۔ یہ مافیا اسلحہ بیچنے کے لیے ویٹی کن میں بھی جنگ چھیڑ سکتی ہے اور تل ابیب میں بھی۔ فی الحال انہیں آسان ہدف مسلمان ملکوں کی شکل میں ملا ہوا ہے اس لیے وہ اس میں مصروف ہیں، جب مسلمان حکمرانوں کو ہوش آئے گا اس وقت تک ان کے ممالک تباہی کا شکار ہوچکے ہوں گے۔ ساری دنیا میں اصل مافیا اسلحہ اور قبضہ مافیا ہے۔ کہیں مذہب کا نام لیا جاتا ہے، کہیں انسانی حقوق کا، کہیں زمین پر قبضے کا۔ لیکن یہ سارا کھیل اسلامی ملکوں کے وسائل لوٹنے کے لیے کھیلا جارہا ہے۔ شہزادہ سلمان دنیا کو ڈرا رہے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ وہ بھی شاید تصور نہ کرسکیں جب تیل کی قیمتیں بے انتہا زیادہ ہوجائیں گی تو امریکا اپنا تیل مارکیٹ میں لائے گا اور جنگ زدہ ممالک کا تیل محفوظ ہی نہیں رہے گا تو فروخت کیا کریں گے۔ اگر دنیا سے اپنا موقف منوانا ہے تو بیان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔