انتخابات‘ سقوط ڈھاکا اور بھٹو کا دورِ حکومت(باب دواز دہم )صدر ایوب کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش کا انکشاف

364

اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ ۲۵؍ مارچ ۱۹۷۱ء کو پاکستان کے صدر ایوب خان نے اقتدار فوج کے حوالے نہیں کیا تھا بلکہ جنرل یحییٰ خان‘ جنرل عبد الحمید خان‘ لیفٹیننٹ جنرل پیرزادہ میجر جنرل عمر‘ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن اور میجر جرنل مٹھا‘ ایوب خان کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش میں ملوث تھے اور رپورٹ میں ان پر کھلے عام مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی تھی۔
نام نہاد جنگی جرائم کی حقیقت
شیخ مجیب‘ عوامی لیگ اور بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلا دیش کی تشکیل کے دوران قتل و غارت گری کے حد سے زیادہ مبالغہ آمیز اعداد و شمار بیش کیے جاتے رہے تھے وہ دروغ گوئی کی آخری حدود سے بھی متجاوز تھے۔ ۶؍جنوری ۱۹۷۲ء کو شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان سے رہائی کے بعد لندن پہنچتے ہی دعویٰ کیا کہ بنگلا دیش میں دس لاکھ انسان مارے گئے۔ (دی ٹائمز‘ ڈیلی ٹیلی گراف‘ لندن‘ ٹائمز آف انڈیا‘ دہلی‘ پاکستا ن ٹائمز‘ لاہور ۹؍ جنوری ۱۹۷۲) لیکن لندن سے براستہ دہلی ڈھاکا جاتے ہوئے شیخ مجیب کے فہم اور معلومات میں حیر ت انگیز اضافہ ہوا اور ۱۰؍ جنوری کو ڈھاکا کی سرزمین چھونے کے بعد موصوف نے کہا ’’۳۵ لاکھ بنگالی مارے گئے ہیں‘‘۔ (جیوتی سین گپتا‘ بنگلا دیش میں تحریک آزادی‘ ۱۹۴۷ء تا ۱۹۷۳ء (انگریزی) کلکتہ‘ ۱۹۷۴‘ ص ۴۴۵)۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے ۳۵ لاکھ کے عدد میں ذرا کمی کر کے ’’۳۰ لاکھ مارے گئے اور ۳ لاکھ عورتوں سے بالجبر زیادتی (ریپ) کی گئی‘‘۔ کے عدد پر جم جانا مناسب سمجھا اور پھر یہی موقف نجی‘ عوامی اور بین الاقوامی سطح پر دہرانا وظیفۂ زندگی بنالیا۔
اصل حقائق
شیخ مجیب حکومت نے ۱۹؍جولائی ۱۹۷۳ء کو بنگلا دیش پارلیمنٹ سے انٹر نیشنل کرائمز ٹربیونل ایکٹ پاس کر وایا تھا تاکہ پاکستانی فوج کے جن ۱۹۵ افسروں اور دیگر فوجی عہدیداروں کو جنگی مجرم قرار دیا گیا تھا ان لوگوں پر مقدمہ چلایا جائے۔ البدر الشمس اور ان کے کارندوں پر مشتمل عسکری تنظیمیں پاکستان آرمی نے اپنی مدد کے لیے قائم کی تھیں۔ ان تنظیموں کے افراد کو بھی شیخ مجیب نے Collaborator قرار دیا تھا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے ۲۴؍ جنوری ۱۹۷۲ء کو Collaborator Order جاری کیا گیا ۔ اس آرڈر کے تحت تقریباً ایک لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں سے ۳۷۴۷۱ افراد پر الزامات عائد کیے گئے لیکن ان میں سے بھی ۶۲۳‘۳۴ کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقدمہ دائر کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ آخر کار صرف ۲ ہزار ۸ سو ۴۸ افراد کے خلاف مقدمات بنے اور عدالت نے ان میں سے ۷۵۲ کے خلاف جرم ثابت ہونے پر مختلف سزاؤں کے فیصلے دیے جب کہ ۲ ہزار ۹۶ افراد کو باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔
جماعت اسلامی اور المیہ مشرقی پاکستان
سقوط ڈھاکا سے پہلے اور بعد میں ہندوستانی ذرائع ابلاغ اور مسلم دشمن مغربی پریس نے البدر اور الشمس کو جماعت اسلامی کی دہشت گرد پیرا ملٹری فورس قراردیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان دونوں تنظیموں نے ۱۹۷۱ء میںہزاروں معصوم بنگالیوں کا قتل عام کیا اورلوٹ مار میں ملوث رہے۔ یہ پروپیگنڈا بعد میں بھی جاری رہا اور اصل حقیقت جاننے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی گئی‘ بلکہ جانب دار انہ جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین کرکے بیانات داغ دیے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے یہ دونوں تنظیمیں جماعت اسلامی کے ارکان پر مشتمل نہیں تھیں البدر اسلامی چھاتروشنگھو(اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان)‘جبکہ الشمس کا تعلق نظام اسلام پارٹی اور دیگر محب وطن بنگالی سر فروشوں سے تھا ۔
(جاری ہے)