سعمودی-ای-ویزا-،پاکستان-کو-شامل-کیا-جائے

275

شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سے سعودی عرب کو آہنی پردے کے پیچھے چھپے ملک کے بجائے ایک کھلے ملک کے طور پر سامنے لانے کے منصوبے پر کام جاری ہے ۔ اس منصوبے کے تحت سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ سرحد سے متصل ایک علاقے کو خصوصی طور پر سیاحوں کے لیے ترقیدی جا رہی ہے ۔ اسی منصوبے کے تحت سعودی حکومت نے سیاحوں کے لیے ای ویزا کی سہولت کا اعلان کیا ہے ۔ اس سہولت کے تحت کوئی بھی سیاح پانچ منٹ کے اندر ای ویزا حاصل کرسکتا ہے جو ایک سال کے لیے کارآمد ہوگا اور سیاح اس ایک سال میں جتنی مرتبہ بھی چاہے سعودی عرب جا سکتا ہے ۔ مسلم سیاح کو مقامات مقدسہ بھی جانے کی سہولت حاصل ہوگی ۔ سعودی حکومت کے مطابق یہ سہولت دنیا کے صرف 52 ممالک کو حاصل ہوگی جس میں سارے یورپی ممالک ، امریکا ، کینیڈا، روس ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں ۔ مسلم ممالک میں یہ سہولت صرف ملائیشیا اور برونائی کو دی گئی ہے ۔ مسلمانوں اور خاص طور سے پاکستان کے مسلمانوں کو سعودی عرب سے خاص انسیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر برس پاکستان سے عمرے پر جانے والے زائرین کی تعداد پوری دنیا سے آئے ہوئے زائرین کی تعداد سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ سعودی حکومت خصوصی طور پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اس جانب توجہ دینی چاہیے اور سیاحت کی اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل کرنے کا فوری حکم دیں ۔ اس سے سعودی عرب کو بھی فائدہ ہوگا کہ اس کے سیاحوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستانیوں کی بھی قربت میں اضافہ ہوگا ۔