قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

113

پھر اْن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اْس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟۔اْس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگے ’’یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے۔ یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اْس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟۔ (سورۃ المؤمنون:32تا35)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’ہم دنیا میں آنے والوں کے اعتبار سے پیچھے ہیں، لیکن قیامت کے دن آگے ہوں گے، بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی، پھر یہی ان کا دن بھی ہے، جس میں تم پر عبادت فرض کی گئی، ان لوگوں نے تو اس میں اختلاف کیا، لیکن ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت دی، پس لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں۔ کل یہود کی عبادت کا دن ہے اور پرسوں نصاریٰ کی عبادت کا دن ہے‘‘۔
(بخاری)