پیرس میں چاقو حملہ، 4 پولیس اہلکار ہلاک

70
پیرس: پولیس کمانڈوز اور فوج نے چاقو حملے کے بعد جائے وقوع کو گھیر رکھا ہے
پیرس: پولیس کمانڈوز اور فوج نے چاقو حملے کے بعد جائے وقوع کو گھیر رکھا ہے

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے پولیس ہیڈ کوارٹرز میں چاقو سے کیے گئے ایک حملے میں حملہ آور اور 4 اہل کار ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور خود بھی ایک پولیس اہل کار تھا، جسے گولی مار دی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق پولیس کی ٹریڈ یونین کے ایک عہدے دار لوئی ٹریورس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ خوں ریز واقعہ جمعرات کے روز پیرس کے پولیس ہیڈ کوارٹرز کے اندر پیش آیا۔ حملہ آور پولیس کے عملے کا ایک سویلین اہل کار تھا اور اس نے طیش میں آ کر اپنے ہی ساتھیوں پر چاقو سے حملے کرنا شروع کر دیے تھے۔ ٹریورس نے بتایا کہحملہ آور نے یہ خونریز کارروائی اپنے دفتر سے شروع کی اور پھر وہاں سے نکل کر پولیس ہیڈ کوارٹرز کے اندر ہی اسے جو بھی نظر آیا، اس نے اس پر وار کرنا شروع کر دیے۔ ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اس حملہ آور کے ہاتھوں صرف ایک پولیس اہل کار ہلاک ہوا، لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد 4 پولیس اہل کاروں کے ہلاک ہو نے کی تصدیق کر دی گئی۔ یہ حملہ اس وقت اپنے انجام کو پہنچا، جب پولیس ہیڈ کوارٹرز میں موجود اہل کاروں نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق ابھی تک یہ امر واضح نہیں کہ اس جان لیوا حملے کے محرکات کیا تھے۔ پولیس ٹریڈ یونین کے عہدے دار ٹریورس کا کہنا ہے کہ شہر کا پولیس ہیڈ کوارٹر وسطی پیرس میں مشہور زمانہ نوٹرے ڈیم کیتھڈرل سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے، جسے جانے والے تمام راستے اس حملے کی اطلاع ملتے ہی بند کر دیے گئے تھے، جب کہ فوری طور پر پولیس کمانڈوز اور فوج طلب کرلی گئی۔ حملے کے بعد صدر عمانویل ماکروں، وزیر اعظم ایڈورڈ فلیپی اور وزیر داخلہ کرسٹوفر کاسٹانر جائے وقوع پر پہنچے۔ جب کہ پیرس کی خاتون میئر این ہیڈالگو نے اس واقعے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ پیرس میں پیش آنے والا یہ ہلاکت خیز واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔