ٹرمپ انتظامیہ پر مؤاخذے کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

83

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ایوان نمایندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شِف نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف مؤاخذے کی تحقیقات میں انتظامیہ کی جانب سے روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ثبوت سمجھا جائے گا۔ ایوان نمایندگان کی عمارت کے احاطے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شف نے کہا کہ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ وائٹ ہاؤس ہماری تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ شف نے مزید کہا کہ ہم یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو یا دیگر کسی بھی شخص کی طرف سے متعلقہ شہادتوں تک رسائی کی کانگریس کی استعداد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو اسے ثبوت کی فراہمی میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایوان نمایندگان میں ڈیمو کریٹ رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے مؤاخذے کی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اس کارروائی کا اعلان اس ٹیلی فون کال کے انکشاف کے بعد ہوا جس میں صدر ٹرمپ نے یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کہا کہ 2020ء کے ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار اور سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف چھان بین کی جائے۔ اس ٹیلی فون کال کو شکایت کا آغاز سمجھا گیا جس میں اظہار تشویش کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے یوکرائن پر زور دیا کہ وہ بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرے، جو انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے مترادف ہے۔