اختیارات ملیں تو 3ہفتوں میں لوٹی ہوئی دولت واپس لے آئوں، چیئرمین نیب

68

لاہور(نمائندہ جسارت) چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اختیارات ملیں تو3 ہفتوں میں لوٹی ہوئی دولت واپس لے آؤں گا۔لاہور میں تاجروں اور صنعتکاروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ اورکاروبار میں فرق ہے، ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ الگ الگ ہیں، منی لانڈرنگ قانوناً جرم ہے، عدالت عظمیٰ نے کئی مقدمات ہمارے حوالے کیے، کسی بھی کاروبارمیں تاجر اور بینک کا چولی دامن کا ساتھ ہے، بینک ڈیفالٹ کیس میں نیب نے کبھی براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔جاوید اقبال نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں ٹیکس چوری کا کوئی کیس نیب کے پاس نہیں ہوگا، ٹیکس معاملات کے تمام مقدمات ایف بی آر کو بھیجیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں جس کی معلومات جلدی آگئیں اس پرجلد فیصلہ کیا گیا، پاناما کے باقی مقدمات بھی چل رہے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ہوسکتا ہے آٹے کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہو جب کہ نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک نہیں کئی مافیا ہیں ، نیب مکمل تحقیقات کے بعد کیس یا ریفرنس فائل کرتا ہے، ایک شخص کو موٹرسائیکل پر دیکھا کئی برس بعد وہ پلازوں کا مالک کیسے بن گیا ؟۔ ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگین رضاکارانہ فعل ہے، کوئی بزنس مین نہیں کہہ سکتا پلی بارگین میں اس سے زیادتی ہوئی ہے، مجھے ہر ایک کی عزت نفس کا احساس ہے البتہ 100 روپے لوٹنے والے سے 10روپے لینا ملک سے زیادتی ہے اور جب تک میں منظور نہ کروں پلی بارگین ہو نہیں سکتی۔