ایکسپورٹرز کے کام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں،سپریم کورٹ

117

سپریم کورٹ نے کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ تجارتی حجم کم ہونا ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔

سپریم کورٹ میں فلورملز کو بنک گارنٹی واپس کرنے کے حکم کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سماعت کے بعد پنجاب حکومت کی اپیل خارج کردی۔

عدالت نے پنجاب حکومت کو آٹا برآمد کرنے والی فلور ملز کو بینک گارنٹی واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاروباری طبقے کو سہولیات دی جائیں نا کہ مشکلات پیدا کی جائیں،بدقسمتی سے ایکسپورٹرزکے کام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے برآمدات متاثر ہورہی ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ برآمدات متاثر ہونے سے تجارتی حجم کم ہورہا ہےجوملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔

فلورملز کے وکیل نے کہا کہ بنک گارنٹی ڈالر میں جمع کرائی گئی جس کی مقامی کرنسی میں تبدیلی کی تصدیق اسٹیٹ بینک نے بھی کی۔ ڈائریکٹرفوڈپنجاب نے موقف اختیار کیا کہ فلورملزمحکمہ خوراک کومطمئن نہ کر سکیں۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ آپ نے اپنے اطمینان کیلئے کونسے دستاویزات مانگے تھے جو نہیں ملے؟، آپ پتا نہیں کس طرح کا اطمینان چاہتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں کاروباری طبقے کو سہولیات دی جائیں گی، دوسری طرف کاروباری افراد کیلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔