اگلے 30 سال میں پاکستانی معیشت کا شمار بڑی مارکیٹ میں ہوگا

131

کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اگلے 30 سال میں پاکستانی معیشت کا شمار بڑی مارکیٹ میں ہوگا۔

اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ بینک کےکنٹری ڈائریکٹر الانگو پاچامیتھونے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مختلف مسائل کا سامنا ہے،معیشت کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، حکومت کی ترجیحات درست سمت میں ہیں اور اگلے تیس سالوں میں پاکستان کی معیشت کا شمار بڑی مارکیٹ میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کا تناسب گروتھ ریٹ سے دگنا ہے، رواں سال پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد ریونیو گروتھ ہوئی ہے، پاکستان کو مسائل سے باہر نکل کر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔

ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی نسبت بنگلہ دیش اور ویتنام میں صحت اور تعلیم کے لئے زیادہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے، کراچی ملکی معیشت کا حب ہے لیکن وہاں بھی انفراسٹکچر سمیت بہت سے مسائل ہیں، پاکستان میں انویسمنٹ دیگر ساوٴتھ ایشیائی ممالک کی نسبت کم ہے، ساوٴتھ ایشین ممالک میں پاکستان کی برآمدات بھی کم ہیں، مستحکم نظام کے ذریعے معیشت میں بہتری آ سکتی ہے اور معیشت کی بہتری کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ پاکستان میں ایگری کلچر میں جدت کی ضرورت ہے، زراعت میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب وزارت خزانہ نے معیشت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کے سکڑنے سے متعلق میڈیا میں خبریں غلط ہیں، ایسی خبروں کے برعکس معیشت کی صورت حال بہتر ہورہی ہے۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ قومی زراعت ایمرجنسی پروگرام سے شعبے میں بہتری آرہی ہے، زرعی شعبے میں 235 ارب سے 8 میگا پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں، پروجیکٹس سے روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

وزارت خزانہ کے مطابق توقع ہے کہ زرعی شعبہ 3 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گا، حکومت نے صنعتی شعبے میں طویل المدتی اصلاحات کے اقدامات کیے ہیں، اثرات بڑی صنعتوں کے شعبہ جات اور برآمدات پر ہوں گے۔