برآمدات کے لیے” پرومو کونسلز“ کا قیام  ضرورت ہے، آغا شہاب احمد خان

218

وزیراعظم کا کراچی چیمبرکی تجویز پر اتفاق، رزاق داو¿دکو امکانات کاجائزہ لینے کی ہدایت

تاجروں کے خلاف نیب کیسز کے جائزے کے لیے تاجربرادری سے4نمائندوں کا انتخاب کیا جائے گا ،وزیراعظم

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے میں اجلاس میں مختلف امور پر بات چیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم نے تاجروصنعتکار برادری سے تجاویز طلب کیں کہ کس طرح ملکی برآمدات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے جس پر کے سی سی آئی نے مو¿ثر طریقے سے ملکی برآمدات کو فروغ دینے باالخصوص سرجیکل آلات، پھل و سبزیاں،ماربلز، جواہرات وزیورات اور دیگر مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے ” پرومو کونسلز“ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔اس سلسلے میں پاکستان کے کمرشل قونصلرز جو دنیا کی انتہائی منافع بخش مارکیٹوں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں انہیں بہت زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ تجویز کردہ پرومو کونسلز کو تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہوناچاہیے۔ان پرومو کونسلز کے لیے کے سی سی آئی نے 36شعبوں کی نشاندہی کی ہے جس میں ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے کر اور مو¿ثر مارکیٹنگ کے ذریعے برآمدات کوفروغ دیاجاسکتا ہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے وزیراعظم کے ساتھ اجلاس کی تفصیلات کا تبادلہ کرتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داو¿د،مشیرخزانہ حفیظ شیخ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی اور چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
آغا شہاب نے بتایا کہ وزیراعظم نے کے سی سی آئی کی جانب سے پرومو کونسلز کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے رزاق داو¿د کو ہدایت کی کہ وہ ان پرومو کونسلز کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیں کیونکہ مختلف شعبوں سے برآمدات کوفروغ دینے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ تاجروں کے خلاف نیب کیسز کا جائزہ لینے کے لیے تاجربرادری سے4نمائندوں کا انتخاب کیا جائے گا تاکہ تاجر برادری کو ہراساں نہ کیا جاسکے۔
انہوںنے مزید بتایا کہ ریفنڈ کی ادائیگی کے لیے متعارف کروائے گئے فاسٹرماڈیول کی سست روی پر کے سی سی آئی کے تحفظات پر تاجربرادری کو بتایا گیا کہ جنہوں نے انیکسچر ایچ کی تمام مطلوبہ ضروریات کوپورا کیا ہے، انہیں فاسٹر کے ذریعے ریفنڈ کی ادائیگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔اگر اس فارم کو مکمل طور پر بھرنے کو باوجود کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ ایف بی آر سے رابطہ کیا جاسکتا ہے اور ان کی بھرپور مدد کی جائے گی۔
آغا شہاب نے موجودہ حکومت کی جانب سے پہلی بار ای کامرس پالیسی فریم ورک کے اعلان کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ وقت کی اہم ضرورت تھی کیونکہ عالمی سطح پر ترجیحات بدل رہی ہیں اور ہر ایک ای کامرس اور ای پیمنٹ کی طرف منتقل ہورہاہے۔پاکستان میں آن لائن کاروبار کی توسیع کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو آن لائن ادائیگیوں کو قانونی شکل دینے کے لیے نظام وضع کرنے کو بھی دیکھنا ہوگاجس میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والے پے پال و دیگر سسٹم قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی 50فیصد آبادی نوجوان نسل پر مشتمل ہے جن کی عمر 18سے30سال ہے لہٰذا ای کامرس کو فروغ دینے کے لیے جو بھی اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں اس سے نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔
کے سی سی آئی کے صدر نے ایڈوئزی کونسل کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہاکہ یہ کونسل صرف ٹاپ بزنس ٹائیکونز پر مشتمل ہے جوتاجربرادری کو درپیش مشکلات کی اصل تصویر پیش نہیں کررہی کیونکہ وہ زمینی حقائق سے ناواقف ہیں لہٰذا اصل تصویر کے حصول اور تاجربرادری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے( جو معاشی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں ) وزیراعظم عمران خان کو کراچی چیمبر کا دورہ کرنا پڑے گا کیونکہ چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے صنعتکار تک کراچی چیمبر کے ممبران ہیں۔انہوں نے ایف بی آر اور چھوٹے تاجروں کے مابین شناختی کارڈ کے تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر شناختی کارڈ کی شرط کا مخالف نہیں لیکن اس پر بتدریج عمل درآمد ہونا چاہیے۔اس کے جواب میں تاجربرادری کو واضح طور پر بتایاگیا کہ شناختی کارڈ کی شرط کو سال یا اس سے زیادہ مو¿خر نہیں کیا جا سکتا۔چھوٹے تاجروں کو یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ وہ اس شرط کو پورا کریں گے تب ہی حکومت اس پر عمل درآمد میں کچھ توسیع یا مدت میں نرمی دینے پر سوچ سکتی ہے لیکن یہ توسیع ایک سال کی مدت کے لیے نہیں دی جاسکتی جو کہ ممکن نہیں ۔
آغا شہاب نے کہاکہ مسائل پر توجہ دینے اور ان کے حل کے لیے موجودہ حکومت کے عزائم کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی کی تاجروصنعتکار برادری بہت پرامیدہے کہ جلدہی بہتری ہوتی نظر آئے گی لیکن جمود کی وجہ سے فی الحال صنعتی پہیہ شدید نقصان کاشکار ہے۔ میں حکومت پر زور دوںگا کہ سب سے پہلے معیشت پر توجہ دے تاکہ بعض انتہائی اہم معاشی مسائل پر توجہ دے کر انہیں بروقت حل کیا جاسکے جبکہ صنعتوں کی بحالی اور نئے کاروبار کی ترقی کے لیے بھی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی اور ضروری ہے کہ سیاسی امور کوبعد میں انجام دیا جائے۔
اس موقع پر کے سی سی آئی کے سابق صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے درخواست کی کہ تاجربرادری کی خطیر اعانت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں معیشت کا چوتھا ستون قرار دیاجائے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے طورخم بارڈر کو ساتوں دن 24 گھنٹے کھولنے کاخیرمقدم کیا جو ایک مثبت اقدام ہے لیکن دوسری طرف ضروری ہے کہ حکومت مقامی صنعتوں اور معیشت کو شدید نقصانات سے بچانے کے لیے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی مو¿ثر حکمت عملی اختیار کرے۔
انہوں نے حکومت سے ٹریڈ آرگنائزیشن 2013پر دوبارہ نظرثانی کی درخواست کی جس پر مشیر تجارت رزاق داو¿د نے اتفاق کیا جبکہ صحت مند مقابلے کو فروغ دینے اور کارکردگی کی بنیاد پر مراعات کے اعلان کے لیے صوبوں کے لحاظ سے برآمدات کی تفصیلات کو بھی ضرور تشہیر کیا جائے ۔انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ فائنل ٹیکس ریجم کے خاتمے کے بعد کم سے کم ٹیکس نظام کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں جو متوازی ٹیکس نظام کے مترادف تھا، سنگل ٹیکس سسٹم ہونا چاہیے اورکم از کم ٹیکس کا تصور ختم کیا جانا چاہیے اس سے ٹیکس کا نظام مزید ہموار ہوگا اور ٹیکس کی غیر ضروری پیچیدگیوں کے خاتمے کے علاوہ رقوم کی واپسی کی ضرورت کوبھی کم کرے گا۔