نمرتا کیس، عدالتی تحقیقات کا آغاز، ساتھی طالبات اور دیگر کو نوٹس جاری

53

لاڑکانہ(نمائندہ جسارت) میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی پر اسرار موت کی عدالتی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔نمرتا ہلاکت کیس کی عدالتی تحقیقات میں آج بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے جس کیلیے ساتھی طالبات، نگراں اور نائب نگراں ہاسٹل سمیت مختلف ملازمین کی طلبی کے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ آنجہانی نمرتا کے والد اور بھائی ڈاکٹر وشال کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی پراسرار موت کی عدالتی تحقیقات سندھ حکومت کی درخواست پر کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ 16 ستمبر کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جب کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھے لیکن چند ماہ پہلے مہران ابڑو نے شادی سے انکار کر دیا تھا اور یہ جواز پیش کیا کہ ’دونوں کے بیچ اسٹیٹس کا ایک بہت بڑا فرق ہے، مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں، مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی تھی۔
نمرتاکیس