دنیا کی بہترین سیکورٹی ہونے کے باوجود امریکی صدر پر حملے ہوئے،ہولڈنگ

53
کراچی : آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز سابق فاسٹ بولرمائیکل ہولڈنگ کمینٹیٹر اور فری لانس کرکٹر بیری ولکنسن کو سوینئر پیش کررہے ہیں ،آخری تصویر میں اپنے اعزاز میں دیے گئے اعشائیے سے مائیکل ہولڈنگ خطاب کررہے ہیں
کراچی : آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز سابق فاسٹ بولرمائیکل ہولڈنگ کمینٹیٹر اور فری لانس کرکٹر بیری ولکنسن کو سوینئر پیش کررہے ہیں ،آخری تصویر میں اپنے اعزاز میں دیے گئے اعشائیے سے مائیکل ہولڈنگ خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)دورہ پاکستان پر موجود ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بولر مائیکل ہولڈنگ نے سری لنکا کی طرح دیگر بین الاقوامی ٹیموں کی پاکستان آکر کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بولر مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں اور بھی ٹیمیں کرکٹ کھیلنے آئیں تاکہ یہاں سیکورٹی کے حوالے سے قائم تاثر ختم ہوسکے ، سیکورٹی سے متعلق صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ کراچی کا دورہ بہت آرام دہ رہا، انہیں کہیں کسی قسم کی پریشانی محسوس نہیں ہوئی لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کچھ ہونہیں سکتا، ہونے کو دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا امریکی صدور کو سب سے بہترین سیکورٹی ملتی ہے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ امریکی صدور پر بھی حملے ہوئے حتی کہ میرے ساتھ جمیکا میں بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے اصل بات دنیا کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ جو حفاظت فراہم کی جائے گی، وہ بہترین ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے پاکستان کے حوالے سے بہت باتیں بنائی ہیں، ایسے میں پاکستان کو دیگر ٹیموں کو یہاں لانے میں بہت محنت کرنا ہوگی ۔ اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا جو لوگوں کو یہاں آنے سے خوفزہ کرتا ہے۔لیجنڈ بولر مائیکل ہولڈنگ نے مزید کہا کہ یہ تاثر کا ہی فرق ہے کہ لندن دھماکوں کے بعد بھی آسٹریلین ٹیم نے اپنا دورہ انگلینڈ جاری رکھا تھا اس لیے پی سی بی کو ثابت کرنا ہوگا کہ سب کچھ واقعی ٹھیک ہے اور ایسا اس وقت ہی ہوگا جب سری لنکا کی طرح دیگر ٹیمیں یہاں آئیں اور وہ ان دوروں میں دنیا کو ثابت کریں کہ سب کچھ بہترین ہے۔مختصر کرکٹ کھیلنے کے ٹرینڈ سے متعلق سابق ویسٹ انڈین بولر نے کہا کہ اب کرکٹ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ فاسٹ بولرز کا خود کو طویل کیرییر کیلئے فٹ رکھنا مشکل ہوگیا ہے اس لئے پلیئرز اپنا کیرئیر طویل کرنے کیلئے صرف مختصر مدت کی کرکٹ کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ انہیں زیادہ پیسے کمانے کا موقع مل سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ 12سال میں 60ٹیسٹ کھیلے، آج ایک پلیئر سال میں 14سے پندرہ ٹیسٹ کھیل رہا ہے، اس کے علاوہ دیگر فارمیٹس کی کرکٹ الگ ہورہی ہے ایسے میں پلیئرز سوچتا ہے کہ وہ ٹیسٹ سے زیادہ رقم مختصر مدت کی کرکٹ کھیل کر کما سکتا ہے اور اس سے اس کا کیرئیر بھی کچھ طویل ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کھلاڑیوں کو الزام نہیں دیا بلکہ کہا کہ انہیں حق ہے کہ وہ اپنی روزی روٹی کمانے کا مناسب زریعہ دیکھیں ۔قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر کے حوالے سے سابق ویسٹ انڈیز لیجنڈ نے اتفاق کیا کہ ان کے کھیل میں کچھ کمی آئی ہے، پہلے وہ جیسی گیند چاہتے تھے ویسی کراتے تھے لیکن اب انہیں کچھ دقت ہورہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ عامر واپسی کے بعد ویسے نہیں جیسے وہ پابندی سے پہلے تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ سال میں محمد عامر کی گیند پر کتنے کیچز ڈراپ ہوئے، اور ان چیزوں نے بھی محمد عامر کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔دوسر ی طرف آئی جی ہاؤس میں ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے دنیائے کرکٹ کے عظیم فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ کے اعزاز میںآئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام کی جانب سے عشائیہ دیا گیا اس موقع پر معروف کمینٹیٹر اور فری لانس کرکٹر بیری ولکنسن بھی انکے ساتھ تھے۔آئی جی سندھ نے مہمانان گرامی کی آمد پر ان سے مصافحہ کیا اورانتہائی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ آئی جی سندھ نے مائیکل ہولڈنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپکا بہت بڑا مداح ہوں اور آج یہاں آپکی ہمارے درمیان موجودگی اور آمد نا صرف میرے لیے بلکہ سندھ پولیس کے افسران کے لیئے بھی باعث مسرت و افتخار ہے۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سندھ میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی جب بھی تاریخ کا حصہ بنے گی تو اس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم،پاکستان سپرلیگ میں کھیلنے والے انٹر نیشنل کرکٹرز کے ساتھ ساتھ سابقہ عظیم کرکٹرز اور آج کے کمینٹیٹرز کے نام بھی سرفہرست ہونگے۔انہوں نے کہا کہ پولیس صوبے اور باالخصوص مرکزی شہروں میں ہونیوالے تمام چھوٹے بڑے ایونٹس کھیلوں کے مقابلوں اور باالخصوص کرکٹ کے میگا ایونٹس کے موقع پر بین الاقوامی طرز اور معیار کی سیکورٹی فراہم کرنے میں انتہائی پرعزم رہتے ہوئے مستعد اور متحرک ہے۔اس موقع پر مائیکل ہولڈنگ نے پروقار تقریب عشائیہ کے انعقاد اور عزت افزائی پر آئی جی سندھ اور دیگر سینئر پولیس افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کا پیاراور خلوص اورکرکٹ سے جنون کی حد تک انکی محبت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں میلوں اور قوسوںدور رہتے ہوئے بھی اپنے ہی وطن اور وطن کے لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔انکا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ کرکٹ سے بے حد پیار کرتے ہیں اورکرکٹرز کا احترام اورانکی پذیرائی ایک فرض کے طور پر کھلے دل کے ساتھ کرتے ہیں۔میں دنیائے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان آئیں اور یہاں شائقین کرکٹ اورکرکٹرز کے مداحوں کا جوش وخروش دیکھیں اور سب سے بڑھکر یہاں کے لوگوں میں احساس تحفظ اور اپنے ملک کے سیکورٹی اداروں پر اعتمادکو دیکھیں۔ پاکستان ایک پرامن ملک اورصوبہ سندھ امن کی دھرتی ہے۔سری لنکن کرکٹ ٹیم کی اس سیریز سے مجھے قوی امید ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی راہیں بتدریج ہموار ہونگی اور ایک دن ایسا بھی آئیگا جب بین الاقوامی کھلاڑی اس ملک میں آکرکھیلنا اپنے لیے باعث اعزاز سمجھیں گے۔ عشایئے میں معروف کرکٹرز شاہد خان آفریدی، فیصل اقبال کے علاوہ اسکواش کے سابقہ عالمی چیمپیئن جہانگیر خان،کمینٹیٹرز مجاہد چشتی،سکندر بخت، یحیٰ حسینی،مرزا اقبال بیگ نے شرکت کی۔جبکہ پولیس افسران میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی سی ٹی ڈی،اسپیشل برانچ،ڈی آئی جیز ایسٹ ویسٹ و دیگر بھی موجود تھے۔