نئے صوبوں سے متعلق متحدہ کے بل کیخلاف سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور (متحدہ اور پی ٹی آئی کا واک آئوٹ)

55

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے بدھ کو اپنے اجلاس کے دوران ایم کیوایم کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی آئینی ترمیم کے خلاف مذمتی قرارداد اپوزیشن کے سخت احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود منظور کرلی، ایوان میں موجود ارکان نے کھڑے ہوکر قرارداد کے حق میں اپنی رائے دی جبکہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اس موقع پر زبردست ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی ہوئی پیپلز پارٹی کے ارکان نے ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کے نعرے لگائے، اپوزیشن قواعدمعطل کرکے پیپلز پارٹی کے غلام قادر چانڈیو کو مذمتی قرارداد پیش کرنے کی اجازت دیے جانے پر بپھر گئی ، اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوکر احتجاج اور شور شرابہ شروع کردیا۔اسپیکر آغا سراج درانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ میں کٹ جاوں گا، مرجاؤں گا مگر سندھ کی بقا پر آنچ نہیں آنے دوں گا، سندھ کے لیے میرے خاندان کی بھی بڑی قربانیاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سندھ کی تقسیم کبھی بھی برداشت نہیں کرینگے، سندھ کاایک ایک بچہ مرجائیگا لیکن سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دے گا۔ رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سید عبدالرشید نے قرارداد پر تقریرکرتے ہوئے کہا کہ آج پھر سندھ کی تقسیم اور مسائل پر بات ہوئی ہے میںاس قرارداد کی حمایت اور ترمیم کی مخالفت کا اعلان کرتا ہوں۔ اس پرمحمد حسین نے لقمہ دیاکہ ان کا تو قومی اسمبلی میں رکن ہی نہیں ہے وہ بات کررہے ہیں۔ عبدالرشید نے جواباً کہا کہ حوصلہ رکھیں ابھی تو بولنا شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل جب عالمی عدالت میں کیس گیا تو وہ پی ٹی آئی کی قیادت تھی جس نے الزام لگایا کہ کراچی سے جناح پور کے نقشے برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے کام میں ایم کیو ایم، ن لیگ، پیپلز پارٹی بھی شامل تھی۔کیا کراچی میں روزگار اورپانی نہیں ملتا اور کچرا نہیں اٹھتا تو اس کا حل کیا آرٹیکل 342 ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے لوگوں کو بانٹا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبوں کی تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں نہ ہی انتشار کی ضرورت ہے۔سید عبدالرشید نے کہا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام مسائل و مشکلات کا شکار ہیں‘ آئینی ترامیم 22 کروڑ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی مہاجروں کی تو کبھی سندھیوں کی ہمدردی کے لیے آئینی شقوں کو استعمال کیا جاتا ہے‘ 74 برسوں سے ملک کے مسائل ختم نہیں ہوئے‘ ملک کا مسئلہ دیانت اور انصاف ہے جو ناپید ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایمان دار لوگوں کو حکومت ملنی چاہیے۔ یہ خواہشات کی تکمیل کا وقت نہیں بلکہ مسائل کو حل کرنے اور ضروریات کو پورا کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عام آدمی کو حقوق نہیں ملیں اور اس کے مسائل و مشکلات میں اضافہ ہوگا تو عوام میں بے چینی بڑھے گی۔ استحصالی طبقہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے لوگوں کو استعمال کرتا ہے‘ مشرقی بازو توڑا گیا تو اس کی داستان موجود ہے۔ سید عبدالرشید نے کہا کہ تعصب کو اجاگر کرکے مسائل پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ لوگ پہلے ہی زبانوں اور مسلکوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قول و فعل میں تضاد ہوگا تو استحصال بڑھے گا‘ پاکستان پہلے ہی آزمائشوں سے گزر رہا ہے خدارا ملک کو مزید انتشار سے دوچار نہ کیا جائے۔ سید عبدالرشید نے سوال کیا کہ کراچی کو پانی نہیں مل رہا تو کیا اس کا ذمے دار آرٹیکل 239 ہے؟ بتایا جائے کہ پانی کون دے گا؟ سید عبدالرشید نے مزید کہا کہ مسائل کو حل کرنا ہے تو ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا اور مضبوط کرنا ہوگا‘ میئر کراچی بے اختیاری کا رونا رو رہا ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے‘ سندھ حکومت ضلعی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور میئر کراچی کو اختیارات دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ صوبوں کا نہیں حقوق و انصاف کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ دھرتی ہے لیکن اس دھرتی ماں کا چہرہ کراچی ہے‘ آج کراچی میں رہنے والے مہاجر اور سندھی بھی حقوق و انصاف سے محروم اور مسائل و مشکلات کا شکار ہیں‘ میں یہ نہیں چاہتا کہ مسائل پر پردہ ڈالا جائے کیوں کہ یہ وقت خواہشات کی تکمیل کا نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا ہے۔ سید عبدالرشید نے کہا کہ میں صوبے کے اختیار کو چھینے جانے کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی تشکیل صوبوں کے اتحاد سے ہوتی ہے ہم اپنا مشرقی بازو پہلے ہی کھو چکے ہیں‘ اس وقت ایمان دار اور باصلاحیت لوگوں کو حکومت ملنی چاہیے۔ سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ میں اس پورے کھیل کی مذمت کرتا ہوں جو آج پورے پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پانی‘ مہنگائی‘ بے روزگاری سمیت دیگر بنیادی مسائل کون حل کرے گا؟ سید عبدالرشید نے کہا کہ اس وقت ہمیں ایسا مرغا چاہیے جو اذان دے اور نماز بھی پڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں‘ صوبائی حکومت‘ وفاق اور سینیٹ میں مزید انتشار پیدا کرکے ملک کی وحدت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تمام قومیں مل کر پاکستان کی وحدت کا تحفظ اور ترقی و خوش حالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سید عبدالرشید نے کہا کہ پاکستان کے اندر مسئلہ صوبوں کا نہیں بلکہ گراس لوٹ لیول پر عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کا ہے۔ اس وقت سندھ کو توڑنے یا پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سید عبدالرشید نے کہا کہ میں اس قرارداد کی حمایت کرتا ہوں۔ وزیر اطلاعات سعید غنی نے جذباتی انداز میں کہا کہ سندھ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، جس نے آئینی ترمیم پیش کی ہے اسے اس کے منہ پر دے مارنا چاہیے تھا۔ انہوںنے خبردار کیا کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں ترمیم منظور کی گئی تو ہم ہر حد پار کرجائیں گے اورہم وہ کچھ کرینگے کہ جسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس موقع پر جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے بھی نئے صوبوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم کیخلاف اپنی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ دھرتی پر وار کرنے والاکوئی زندہ نہیں بچے گا،سندھ کارڈ استعمال کرکے نئی مہم جوئی کی جارہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن کلثوم چانڈیونے کہا کہ غداروں پر لعنت پڑتی رہے گی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ تم لوگوں نے تو ملک توڑا ہے۔قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ان کی جماعت سندھ کی تقسیم کے سخت خلاف ہے۔ اسپیکر آگا سراج درانی نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو بل ایوان میں آنے ہی نہیں دینا چاہیے تھا، اگرمیںہوتا تو ایسا کوئی بل آنے ہی نہیں دیتا جس پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ آپ کے ہوتے ہوئے توکبھی اپوزیشن کو بولنے موقع ہی نہیں ملتا۔ بعد ازاں ارکان نے کھڑے ہوکر اس قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دی۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر تقریر کرنا چاہتے تھے لیکن اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے سے روک دیا اور ان کامائیک بند کرادیاگیا ، اپوزیشن لیڈر کامائیک بند کرانے پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واکے آؤٹ کرگئے۔قرارداد کی منظوری کے موقع پرپیپلز پارٹی کے ارکان نے جذباتی ہوکر ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کے زبردست نعرے بھی لگائے۔بعدازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کی دوپہر 2بجے تک ملتوی کردیا۔