تعلیم یافتہ خواتین پرامن معاشرے کیلیے کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں، ثمینہ علوی

125

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان کی خاتون اول مسز ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ وطن عزیز کو جنونی انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں سے نجات دلانے کے لیے دختران پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین پرامن اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار معاشرے میں امن کے قیام کے لیے دختران پاکستان کے کردار کے موضوع پر منعقد ہونیوالی دو روزہ نیشنل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام اسلامی نظریاتی کونسل انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ اور اسلامی یونیورسٹی نے مشترکہ طور پربین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائداعظم آڈیٹوریم میں کیا تھا۔ کانفرنس میں خاتون اول مسز ثمینہ علوی،وفاقی وزیردفاعی پیداوار زبیدہ جلال، پنجاب کی صوبائی وزیر برائے ترقی خواتین محترمہ آشفہ ریاض فتیانہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش، ڈاکٹر فرخندہ ضیا اور قومی اسمبلی کی سابق رکن ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے بھی خطاب کیا ۔ڈاکٹر یوسف الدرویش نے کہا کہ عصر حاضر میں غلو اور شدت پسندی کو سازش کر کے اسلام کیساتھ جوڑا گیا جس کا مسلم اُمہ کو سدباب کرنا ہو گااور آنیوالی نسلوں کو اسلام کے پیغام امن کے سائے میں تربیت دینی ہو گی اور یہ فریضہ خواتین سے بہتر کوئی انجام نہیں دے سکتا۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، قومی انسٹی ٹیوٹ آف سائیکولوجی سینٹر آف ایکسی لینس قائد اعظم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ کمال، وائس چانسلر شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی، ریکٹر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر معصوم یاسین زئی،صوبائی وزیرصوبہ سندھ محترمہ شہلا رضا، پروفیسر ڈاکٹر زیتون بیگم، ڈاکٹر حسین الامین اور محترمہ نائلہ چوہان اور دیگر دانشوروں نے بھی اپنے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا نصف سے زاید حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور ہمارے معاشرے میں خواتین کا بحیثیت ماں، بیٹی، بہن اور بیوی انتہائی اہم کردار ہوتا ہے، اس لیے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ اگر ماں پڑھی لکھی ہوگی تو وہ نہ صرف اپنے گھر کا ماحول بہتر کریگی بلکہ وہ سماجی ماحول پر بھی اثرانداز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے اداروں کا متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کے تحت دختران پاکستان ایجنڈا موجودہ دور کا اہم ترین تقاضا ہے تاکہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے اہم ترین کردار کو اجاگر کیا جاسکے اور خواتین کو بااختیار بناکر انہیں معاشرتی اصلاح کے ایجنڈے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے کو جنونی انتہا پسندی، دہشت گردی اور دیگر علاقائی و مذہبی تعصبات سے نجات دلانے کے لیے بھی خواتین کے کردار کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دختران پاکستان پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے کیونکہ خواتین ہی ہمارے معاشرے میں امن کی بہترین سفیر ثابت ہوسکتی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ دختران پاکستان پروگرام کو وسعت دیکر ملک کے تمام شہروں اور خواتین کے تعلیمی اداروں میں دختران پاکستان کانفرنسوں کااہتمام کرنا بھی موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین اپنے فرائض انتہائی دانشمندی اور جانفشانی سے سرانجام دے رہی ہیں، اس لیے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کراتے ہوئے دختران پاکستان کو بااختیار بنانے کیلئے بھی قابل عمل لائحہ عمل مرتب کرنا ضروری ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ’’دختران پاکستان کا معاشرہ میں قیام امن و ہم آہنگی میں کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے پہلے روز شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاشرے میں قیام امن اور دہشت گردی جیسے رویوں کی بیخ کنی کے لیے خواتین کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں، عصر حاضر کا اہم تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو شدت پسندی، تکفیر اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مباحث میں شریک کر کے مستقبل کے لائحہ عمل کا حصہ بنایا جائے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ عورت ہی معاشرے کی وہ اکائی ہے جو آنیوالی نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کیخلاف منفی پراپیگنڈا کے تدارک اور دہشت گردی کیخلاف خواتین کو بڑھ چڑھ کراپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ نوجوان راہ راست کی تلاش اور بہترین زندگی کیلئے قرآنی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے ارتقا اور اسلام سے وابستہ کیے جانے کے المیے اور حالیہ پیغام پاکستان بیانیہ تک کے منظر نامے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے افریقی ممالک میں جنگ و جدل کے خاتمے میں خواتین کے کردار کی مثالیں دیں۔ انہوں نے جامعہ میں موجود خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی کی طالبات پیغام پاکستان کی سفراء ہیں۔ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ وہ اسلام کے پیغام امن کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا جیسے جدید ذرائع استعمال کریں۔ انہوں نے اسلامو و فوبیا کے حوالے سے وزیر اعظم کی تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام مسلمان کی نمائندگی کی۔