مراد علی شاہ سے ڈیمو کریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے انٹر پارلیمنٹری وفد کی ملاقات

54

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ڈیمو کریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے انٹر پارلیمنٹری وفد نے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی۔ وفد میں کے پی کے، پنجاب اور بلوچستان کے 16 ایم پی ایز اور آرگنائزر شامل تھے، وزیراعلیٰ نے ڈیمو کریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے انٹر پارلیمنٹری وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مختلف صوبوں کی مختلف جماعتوں کے ایم پی ایز سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرین کے آپس میں روابط ہونے چاہییں۔ وفدسے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں لیبر قوانین میں 17 ترامیم کی ہیں اور ہم نے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کو وزارت کا درجہ دیا اور سندھ نے خصوصی طور پرخواتین ورکرز اور ہاری خواتین کو مفت زمین دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت خواجہ سراؤں کو نوکریوں میں کوٹہ دینے کیلیے کام کر رہی ہے۔ ایک سوال کہ پختونوں کا کراچی میں تحفظ نہیں رہا؟ کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں پر کوئی کہیں سے بھی آیا وہ یہیں ضم ہوگیا۔ میں خود بھی سید ہوں اور ہم لوگ بھی باہر سے آئے تھے اور یہاں ضم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی میں ہمارا پختون ایم پی اے اختر جدون تھا اور وہ صوبائی وزیر محنت رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم این ایف سی کے رکن ہیں۔ کسی صوبے نے فاٹا کی ڈیولپمنٹ کیلیے فنڈز نہیں دیے۔ 2010ء کے این ایف سی کے ایوارڈ کے بعد 18 ویں ترمیم آئی، اس کے حساب سے صوبوں کی ذمے داریاں بڑھ گئیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وفاق اپنے حصے سے فاٹا کو فنڈز دے۔ پی پی پی حکومت نے 2010ء میں این ایف سی دیا۔ 2015ء میں ایک اور این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے تھا مگر 2019ء تک بھی تک این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا ہے۔ بلوچستان کو حصے کا پانی نہیں ملتا؟ کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں محکمہ آبپاشی کا منسٹر بھی رہا ہوں اور ہم بلوچستان کو گڈو اور سکھر بیراج سے اس کے حصے سے زیادہ پانی دیتے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام وفاقی حکومت خود کر رہی ہے اور دیہی علاقوں میں غریب لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے اور ہم نے دیہی علاقوں میں 25 ایکڑ زمین خواتین کو دی ہے۔ ہم سیاحت کے فروغ کیلیے بھی کام کررہے ہیں۔ ہم بی او ٹی کی بنیاد پر گورکھ ہل کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔