سیمنٹ انڈسٹری کی مجموعی کھپت میں 11.51 فیصد اضافہ

60

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ستمبر کے مہینے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں سیمنٹ انڈسٹری کی مجموعی کھپت میں 11.51 فیصد اضافہ ہوا ۔ مقامی کھپت اور بر آ مدا ت میں بھی دوہرے ہندسوں میں اضافہ ہوا۔ سیمنٹ انڈسٹری کی کھپت ستمبر 2019ء؁ میں 4.270 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال ستمبر 2018ء؁ میں 3.829 ملین ٹن تھی۔ مقامی کھپت ستمبر میں 3.472 ملین ٹن تھی جو گزشتہ سال اسی ماہ 3.114 ملین ٹن تھی۔ برآمدات بڑھ کر 0.798 ملین ٹن ہوگئیں جبکہ گزشتہ سال ستمبر 2018ء؁ میں 0.715 ملین ٹن تھیں، اس طرح اس مد میں 11.66 فیصد اضافہ ہوا۔ اس ماہ جو تبدیلی آئی اس میں ملک کے شمالی علاقے میں سیمنٹ کی کھپت میں اضافہ تھا جو ستمبر 2019ء میں 22.4فیصد مقامی کھپت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ستمبر 2018ء میں 2.473 ملین ٹن تھا جو رواں برس ستمبر میں 3.027 ملین ٹن ہوگیا۔ ملک کے جنوبی علاقے میں ستمبر 2019ء کی مقامی کھپت 0.446 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال 0.641 ملین ٹن ستمبر 2018ء میں تھی۔ اس طرح اس حصے میں 30.48 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی مجموعی کھپت 11.133ملین ٹن رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے لیے مجموعی کھپت 10.855 ملین ٹن تھی۔ اس طرح مجموعی کھپت میں صرف 2.56 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح جولائی تا ستمبر 2019ء؁ میں مقامی کھپت اضافے کے ساتھ 9.116 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال جولائی تا ستمبر 2018ء؁ میں 9.063 ملین ٹن تھی۔ برآمدات میں زیادہ بہتری رونما واقع ہوئی اور 12.54 فیصد اضافہ ہوا اور پہلی سہ ماہی میں یہ بڑھ کر 2.017 ملین ٹن ہوگئی جو گزشتہ سال اسی مدت کے لیے 1.792 ملین ٹن تھی۔ترجمان آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن(اے پی سی ایم اے) نے کہا کہ ملک کے شمالی علاقے میں سیمنٹ کی کھپت میں اضافہ ایک اچھا عمل ہے لیکن ملک کے جنوبی علاقے میں سیمنٹ کی کھپت میں کمی باعث تشویش ہے۔ شمالی علاقے میں قائم سیمنٹ کے کارخانوں کو کھپت میں اضافے سے فائدہ ہوگا لیکن ملک کے جنوبی علاقے میں قائم سیمنٹ کے کارخانوں کے لیے کھپت میں کمی باعث تشویش ہے کیونکہ پہلی سہ ماہی میں 32.10 فیصد بڑی کمی ہے۔ حکومت کی طرف سے ہائوسنگ اسکیم پر کام شروع کیا جانا چاہیے اس سے تعمیری انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور سیمنٹ انڈسٹری پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اس طرح ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو روزگار کے زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ سیمنٹ سیکٹر پر عائد ڈیوٹیوں اور ٹیکسز میں کمی کی جائے اس طرح سیمنٹ کی کھپت میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح پی ایس ڈی پی کے اخراجات روزگار میں اضافے اور تعمیری انڈسٹری کے فروغ میں کردار ادا کریں گے۔