سال 2019 ء میں آم کی ریکارڈ برآمد ہوئی،محمد اشرف

110

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی(پی ایچ پی ای سی)کے سی ای او محمداشرف نے کہا ہے کہ پاکستان سے سال 2019میں آم کی ریکارڈ برآمد ہوئی ہے اور رواں سال ایک لاکھ15ہزار میٹرک ٹن آم برآمد کیا جاچکا ہے اور سیزن کے اختتام تک آم کی برآمد ایک لاکھ20ہزار میٹرک ٹن رہے گی،سال2011میں پاکستان سے آم کی ریکارڈ برآمدات ایک لاکھ3ہزار ٹن تھی، گزشتہ سال 79ملین ڈالر کا مینگو ایکسپورٹ ہوا تھا اور اس سال 94ملین ڈالر کا مینگوایکسپورٹ کیا جاچکا ہے اور قوی امید ہے کہ سیزن کے اختتام پر آم کی مجموعی برآمد 100ملین ڈالر ہوجائے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہارایف پی سی سی آئی میںپی ایچ پی ای سی اور آل پاکستان فروٹاور ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن ( پی ایف وی اے) کی جانب سے آم کے موجودہ سیزن پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے پی ایف وی اے کے سرپرست اعلیٰ اور سابق چیئرمین وحید احمد، سابق چیئرمین اسلم پکھالی، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد طارق خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ محمداشرف نے کہا کہ رواں سال آموں کی برآمدات میں 42فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دنیا کے 57ممالک میں پاکستان سے آم برآمد کئے گئے،یورپ،سوئڈن،ناروے اور دیگر مہنگی مارکیٹوں میں پاکستانی آم کی ایکسپورٹ بڑھی ہے اور وہاں پاکستان آم کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔انکا کہنا تھا کہ مینگو کے ایکسپورٹرز ہمیں مینگوایکسپورٹ کے حوالے سے شارٹ ٹم اور لانگ ٹرم سفارشات ہمیں بھیجیں۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر وحید احمد نے کہا کہ پاکستان نے پانچ سال بعد ایک لاکھ ٹن آم کی ایکسپورٹ کی سطح عبور کرلی ہے،امریکا،جاپان،چائنا،سائوتھ کوریا،آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کی مارکیٹیں ہمارے لئے بہتر ثابت ہوسکتی ہیں، موثر مارکیٹنگ اور معیار کی بدولت پاکستانی آم نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بہتر قیمت حاصل کی ہے، رواں سیزن آم کی ریکارڈ ایکسپورٹ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چائنا ہمارے لئے اچھی مارکیٹ ہے کیونکہ وہاں ساڑھے تین ڈالر فی کلو کا آم فروخت ہورہا ہے۔،چائنا کہتا ہے کہ 400سے500گرام کا بغیرداغ والا آم چاہیئے مگر یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے بلکہ گروورز کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ چار سال میں پہلی مرتبہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل ہوا ہے جبکہ پانچ سال بعد ایکسپورٹ ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے، اس سال سیزن کے دوران دنیا کے 25ملکوں میں آم کی تشہیر (پروموشن)کی گئی یہ تشہیری سرگرمیاں پاکستانی سفارتخانوں، قونصل خانوں اور پی ایف وی اے کے تحت کی گئیں جن میں پاکستانی آم کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا اور پروموشن میں شریک افراد نے پاکستانی آم کے ذائقے اور خوشبو کو سراہا، پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ میں اضافہ کی ایک اور وجہ پاکستان میں آم کی پیداوار کا سیزن ہے جو جولائی سے ستمبر تک جاری رہتا ہے اس دوران دنیا کے آم پیدا کرنے والے ملکوں میں آم کی پیداوار نہیں ہوتی اور آم کے شوقین ممالک میں پاکستانی آم ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ رواں سیزن لیٹ ورائٹی کی پیداوار بھی اچھی رہی ۔انکاکہنا تھا کہ پاکستان میں آم کی پیداوار بڑھ رہی ہے ، فارمرز بین الاقوامی معیار اور جدید طریقوں کے مطابق آم کے باغات لگارہے ہیں جہاں سے اعلیٰ معیار کا آم حاصل ہورہا ہے بالخصوص خیبرپختون خوا کے علاقوں میں آم کی پیداوار کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور آئندہ پانچ سال میں ان علاقوں سے آم کی بھرپور پیداوار حاصل ہوگی اس لحاظ سے پاکستان میں آم کی پیداوار کا مستقبل بہت روشن ہے۔ ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے دنیا بھر میں پاکستانی آم کی موثر تشہیر جاری رکھنے کی ضرورت ہے ساتھ جاپان، امریکا، سائوتھ کوریا اور چین جیسی ہائی ویلیو اور وسیع منڈیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ان منڈیوں کے لیے آم کی ظاہری خوبصورتی کو بہتر بنانا ہوگا جس کے لیے ریسر چ کی ضرورت ہے وحید احمد کے مطابق ہارٹی کلچر کی مجموعی ایکسپورٹ میں آم کا حصہ 10سے 11فیصد ہے اس شیئر کو آئندہ پانچ سال میں 25فیصد تک بڑھایا جاسکتا ہے اور آم کی ایکسپورٹ 200ملین ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ زمین اور فضائی راستے سے آم کی ایکسپورٹ کے لیے سہولتیں ناکافی ہیں، پھل اور سبزیاں جلد تلف ہونے والی اشیاء ہیں جنہیں مخصوص درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہے بصورت دیگر معیار خراب ہونے اور پوری کھیپ مسترد ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ایئرپورٹس پر پھل اور سبزیوں کی ہینڈلنگ کے لیے سہولتوں کا فقدان ہے اور پھل سبزیاں کھلے مقامات پر رکھی جاتی ہیں اور بارشوں میں ایئرپورٹ پر کارگو میں مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو نقصان اٹھانا پڑا اسی طرح افغانستان اور ایران کے سرحدی مقامات کے قریب جدید ویئر ہائوسنگ کی سہولت کی تعمیر کرکے ایران اور افغانستان کو پھل اور سبزیوں کی ایکسپور ٹ میں پیش آنے والی مشکلات کم اور زرمبادلہ کا حصو ل آسان بنایا جاسکتا ہے۔ فضائی راستے سے ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے قومی ایئرلائن میں کارگو بالخصوص پھل سبزیوں کے لیے گنجائش اور سہولتوں میں اضافہ ضروری ہے پی آئی اے کی فلائٹس اور گنجائش کم ہونے کی وجہ سے غیرملکی فضائی کمپنیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو ہر سال منہ مانگے کرائے وصول کرتی ہیں ۔ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمدطارق خان نے کہا کہ پاکستان سے مینگو کی ایکسپورٹ بڑھانے کی کامیاب کوششیں جاری ہیں،یورپی یونین،امریکا،آسٹریلیا وغیرہ میں پاکستانی مینگو کے حوالے سے بعض خدشات ہیں۔انکا کہنا ہے کہ پاکستانی آم میں ایسے کیمیکل استعمال ہورہے ہیں جو وہاں انسانی زندگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فوڈ سیکیورٹی پر توجہ دینی ہوگی،رسک کسی صورت ختم نہیں ہوسکتا مگر اس میں کمی لائی جاسکتی ہے۔