ٹرمپ نے مواخذے کی کارروائی کو بغاوت قراردے دیا

87
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ڑٹرمپ اپنے فنش ہم منصب ساؤلی نینسٹوکے ساتھ ملاقات میں یوکرائن اسکینڈل پر گفتگو کررہے ہیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ڑٹرمپ اپنے فنش ہم منصب ساؤلی نینسٹوکے ساتھ ملاقات میں یوکرائن اسکینڈل پر گفتگو کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف مؤاخذے کی کارروائی کے لیے جاری تفتیش کو تختہ الٹنے کی کوشش قرار دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے مؤاخذے کی کارروائی پرایک ٹوئٹ میں کہا کہ جوکچھ ہورہا ہے یہ مؤاخذہ نہیں بغاوت ہے۔ مؤاخذے کا عمل امریکی تاریخ کی خطرناک ترین کارروائی ہے۔ مؤاخذے کے نام پرامریکیوں کے شہری حقوق چھینے جارہے ہیں، جب کہ مؤاخذے کا مقصد لوگوں کی طاقت، ووٹ اورآزادی چھیننا ہے۔ امریکی صدرنے کہا کہ میرے خلاف کارروائی کا مقصد مذہب، فوج اورسرحد سے محروم کرنا بھی ہے۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ بہت کچھ سیکھ رہا ہوں۔ ہم امریکا کوایک بارپھرعظیم بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ اسپیکرایوان نمایندگان نینسی پلوسی اورچک شومررکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ مخالفین کا امریکا کوعظیم بنانے میں رکاوٹ ڈالنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ صدرٹرمپ ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم بی شیف پربھی برہم ہوئے اورکہا کہ رکن کانگریس ایڈم شیف کے خلاف فراڈ کی کارروائی کیوں نہیں کی جارہی؟ ایڈم شیف نے مجھ پرغلط الزامات لگائے۔ امریکی صدرکی توہین کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ امریکی ایوان نمایندگان میں صدر ٹرمپ کے یوکرائنی صدر سے ممکنہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے خلاف کارروائی کے لیے مبینہ طور پر مدد مانگنے کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایوان نمایندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ان تحقیقات کے لیے ملکی وزارت خارجہ کے 5 سفارت کاروں کی طلبی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی پر صدر ٹرمپ کو دھمکانے اور انہیں ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹک پارٹی نے پومپیو کے ان بیانات کو تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کا نام دیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی ایوان نمایندگان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مؤاخذے کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے، جس کے بعد صدرکی مشکلات میں اضافہ متوقع ہے اور وہ شدید دباؤ میں نظر آرہے ہیں۔ ڈیموکریٹس اور ایوانِ نمایندگان کے خلاف ان کے بیانات اس دباؤ کی شدت کا پتا دے رہے ہیں۔ امریکا میں ایوانِ نمایندگان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ صدر کے خلاف تحقیقات کرسکتا ہے۔