عراق بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد فوج تعینات

55
عراق: پولیس اور فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے مظاہرین کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے
عراق: پولیس اور فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے مظاہرین کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی حکومت پر کرپشن الزامات کے بعد ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی سطح پر بدعنوانی کے انکشاف، بے روزگاری اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد قیام امن کے لیے ناصریہ شہر کو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ گزشتہ چند روز سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک کئی افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکورٹی اہل کار بھی شامل ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق الحکمہ تنظیم کے سربراہ عمار الحکیم نے دارالحکومت بغداد میں مظاہروں کے بعد پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم حیدر العبادی کے النصر اتحاد نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی۔ گزشتہ روز ہونے والے احتجاج میں پولیس نے اس وقت ہوائی فائرنگ شروع کردی جب مظاہرین نے گرین زون کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال بھی کیا گیا۔ مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں جن میں مظاہرین نے بدعنوانی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ احتجاج کی آڑ میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں عراق بارہویں نمبر پر ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران یہ عراقی دارالحکومت میں ہونے والی بدترین ہنگامہ آرائی ہے۔