شمالی کوریا نے مذاکرات سے قبل ایک اور میزائل داغ دیا

161
سیئول: ہمسایہ ملک شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربے سے متعلق خبر عوامی مقامات پر لگی ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی جارہی ہے
سیئول: ہمسایہ ملک شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربے سے متعلق خبر عوامی مقامات پر لگی ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی جارہی ہے

سیئول (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرنے سے چند روز قبل شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کر ڈالا۔ جنوبی کوریا کے حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ یہ میزائل آبدوز سے داغا گیا۔ جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو داغے گئے میزائل نے 450 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جنوبی کوریائی وزیر دفاع جیونگ کیونگ ڈو نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے سے متعلق جنوبی کوریا کی پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ داغا گیا میزائل 1300 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ تجربہ اس میزائل کی کم فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا نے ایسے وقت میزائل تجربہ کیا ہے جب شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ چے سون ہی نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان 4 اکتوبر کو ابتدائی رابطے شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق مذاکرات سے قبل میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے امریکا کے سامنے اپنی دفاعی صلاحیت کا اظہار ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو مسترد کرتا رہا ہے، جس میں پیانگ یانگ کو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے حصول سے روکا گیا ہے۔ شمالی کوریا کا موقف ہے کہ اسے دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان رواں سال فروری میں ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور ناکام رہا تھا۔ مذاکرات کا مقصد شمالی کوریا کو جوہری اور میزائل صلاحیت بڑھانے سے روکنا تھا۔ امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار کا کہنا ہے کہ انہیں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا علم ہے۔ امریکا صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے اور خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔