ہر کام کیلیے آرڈیننس،ہم اب تک مارشل لا کی کیفیت میں ہیں، جسٹس قاضی فائز

90

اسلام آباد (صباح نیوز+آن لائن+اے پی پی)عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت کو ہرکام کے لیے آرڈیننس جاری کرنے ہیں تو پھر جمہوریت کس کام کی ہے،اسمبلی میں کسی بل پر بحث بھی نہیں کروائی جاتی ، ہم اب تک مارشل لا کی کیفیتمیں رہ رہے ہیں ۔بدھ کو سپریم کورٹ بار ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بظاہر اصل معاملہ 600 کنال کی رقم کا ہے اگر ہائوسنگ فاونڈیشن متاثرین سے رقم کا معاملہ طے کر لے تو عدالت فیصلہ کرے گی۔بتایا جائے کہ کیا ہاؤسنگ فاؤنڈیشن متاثرین کو رقم دینے کو تیار ہے؟ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے وکیل کا کہنا تھاکہ پہلے ہی بہت ساری ادائیگیاں ہو چکی ہیں اب ممکن نہیں ،حکومت نے ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے متعلق جولائی میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ جولائی میں یہ آرڈیننس آیا اور اسمبلی میں اس پر بحث بھی نہیں کرائی گئی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہاکہ ہم ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو رقوم ادا کر چکے ہیں ہمارا معاملہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی 14 سے الگ ہے ،ہمارے معاملے کو اور اس معاملے کو عدالت الگ الگ دیکھے۔سیکٹرایف 14سے متعلق متاثرین اور ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰمیں عمر قید سزا کی معیاد کے تعین سے متعلق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 7رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ پاکستان بار کونسل کی جانب سے وکیل احسن بھون پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ پاکستان بار کونسل بھی کیس میں متاثرہ فریق ہے اس لیے پارٹی بننا چاہتی ہے جس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا پاکستان بار کونسل کوبھی عمر قید کی سز ا ہوئی ہے تو وکیل احسن بھون نے کہا پورے ملک کی بارز اس کیس میں شامل ہونا چاہتی ہیں کیونکہ عدالت کا فیصلہ کسی ایک شخص پر لاگو نہیں ہو گا بلکہ اس کے زیر اثر آنے والوں کی تعداد ہزارو ں میں ہو سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہااس فیصلے سے ہزاروں لوگ متاثر ہوں گے یہ کسی کا انفرادی مقدمہ نہیں، سنجیدہ دلائل کی تو ہمیں بھی بہت پیاس ہے ،پاکستان بار کونسل دلائل کے لیے 2سے 3لوگ نامزد کرے سنیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں ہم نے بہت محنت کی تھی ،کل رات 6ممالک کے فیصلے پڑھ کر 3بجے سویا تھا ۔وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا عدالت غریب ملک زمبابوے کے فیصلے کو بھی مد نظر رکھے جہاں پہلے عمرقید سے مراد ساری عمر کہا گیا تھا تاہم بعد میں پھر جیل میں نہ دوائیاں پوری ہوئی نہ روٹی، چیف جسٹس نے کہارحم دلی اور قانون الگ چیزیں ہیں، عدالت کو قانون پر فیصلہ دینا ہے ،وکلا آئندہ جیل رولز کی شق 140 پڑھ کر آ ئیں ،جیل رولز بناتے ہوئے پینل کوڈ کو تبدیل کردیا گیاکس قانون کے تحت عمر قید کا مطلب 25 سال قید لکھا گیا ہے ؟آج سزا کی معیاد سے متعلق کوئی درخواست نہیں جس کے بعد عدالت نے کیس میں مزید کارروائی ختم کردی۔مزید برآں ایک اور کیس میں عدالت عظمیٰ نے بھائی کو جائداد میں بہنوں کا حصہ دینے کا حکم دے دیاپشاور کے شہری عبدالغفور کو 2ہفتے میں زمین کے انتقال کی دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی جب کہ نجی بینک کے سیکورٹی گارڈز کو ریٹائرمنٹ پر یکمشت رقم ادا کرنے سے متعلق کیس میں ایک ریٹائرڈ سیکورٹی گارڈ کو 3لاکھ 50ہزار روپے بطور پنشن ادا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ عدالتی حکم ماتحت عدالت میں زیر التوا مقدمات پر بھی لاگو ہو گا اوروہاں مقدمات کاسامنا کرنے والے اس حکم سے فائدہ لے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے نیشنل بینک کے او جی ٹو کے ملازمین کے درمیان تنخواہ اور مراعات کے فرق کا معاملہ نمٹاتے ہوئے ملازمین کو تنخواہ اور مراعات دینے کے خلاف نیشنل بینک کی اپیل مسترد کر دی ۔