اقوام متحدہ میں مذہبی کارڈ کھیل کر ہمیں کائونٹر کرنے کی کوشش کی گئی، فضل الرحمن

77

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) اقوام متحدہ میں مذہبی کارڈ کھیل کر ہمیں کائونٹر کرنے کی کوشش کی گئی۔مولانا فضل الرحمن۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفد نے مولانا فضل الرحمن کو ایک مرتبہ پھر دھرنا نومبر تک موخر کرنے کے رضامند کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وفد نے جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جس میں (ن) لیگی وفد نے چمن میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے پارٹی رہنما مولانا حنیف کے جاں بحق ہونے پر تعزیت کی۔ملاقات کے دوران (ن) لیگی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کو شہباز شریف کی بلاول زرداری سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ کیا اور انہیں دھرنا اکتوبر میں نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازا میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مشاورت کر رہی ہیں ،ہم مشترکہ طورپر آگے بڑھیں اور جب فیصلہ کن مراحل آئیں گے تو سب ساتھ ہو ں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورمذہب کوجدا نہیں کیا جاسکتا،ہم آئین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں جس میں مملکت کا مذہب اسلام ہے۔یواین جنرل اسمبلی میں مذہبی کارڈ کا سہارا لے کرہمیں کاؤنٹرکرنے کی کوشش کی گئی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سفارت کاری ناکام ہی نہیں بلکہ ان کو آتی ہی نہیں، ملکی معیشت ڈوب رہی ہے ،تاجر کاروبار چھوڑ رہے ہیں۔پیسا ملک سے باہر جا رہا ہے سب کا اتفاق ہے کہ پاکستان داخلی طور پر ڈوب رہا ہے جب کہ ملین اور آزادی مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے مذہبی کارڈ کھیلا گیا۔اقوام متحدہ میں تقریر کے ریاستی سطح پرنکات تیار کیے گئے تھے۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم مشترکہ حکمت عملی سے چلیں تو فائدہ ہو گا،جو فیصلہ ہمارے قائد نواز شریف کا ہو گا وہ آخری فیصلہ ہوگا،نااہل وزیراعظم کی آنکھوں میں نفرت اور انتقام ہے،مسلم لیگ کی سینئر قیادت کو جیل میں ڈال دیا۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف اسلام آباد تک مارچ کرنے اور وفاقی دارالحکومت میں رواں ماہ دھرنا دینے کا اعلان کرچکے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دھرنے کے وقت سے متفق نہیں۔